(۳۷۶۳۱) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ السَّبَّاقِ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ سَہْلِ بْنِ حُنَیْفٍ ، قَالَ : کُنْتُ أَلْقَی مِنَ الْمَذْیِ شِدَّۃً ، فَکُنْتُ أُکْثِرُ الْغُسْلَ مِنْہُ ، فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لِرَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنَّمَا یَکْفِیَک مِنْ ذَلِکَ الْوُضُوئُ ، قَالَ : قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللہِ ، فَکَیْفَ بِمَا یُصِیبُ ثَوْبِی ؟ قَالَ : إِنَّمَا یَکْفِیَک کَفٌّ مِنْ مَائٍ تَنْضَحُ بِہِ مِنْ ثَوْبِکَ حَیْثُ تَرَی أَنَّہُ أَصَابَ۔
(٣٧٦٣١) حضرت سہل بن حنیف بیان فرماتے ہیں کہ مجھے مذی کی وجہ سے بڑی تکلیف تھی اور میں اس کی وجہ سے بکثرت غسل کرتا تھا۔ میں نے یہ بات رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے ذکر کی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمہیں مذی سے وضو ہی کفایت کر دے گا۔ حضرت سہل فرماتے ہیں۔ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! جو میرے کپڑوں کو لگ گئی ہے اس کا کیا حکم ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ایک چلو پانی تجھے کافی ہے۔ اس کو تو اپنے کپڑوں کے اس حصہ پر چھڑک دے جہاں تیرے گمان کے مطابق مذی لگی ہے۔