(۳۷۶۵۶) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِی ذِئْبٍ ، عَنِ الْمَقْبُرِیِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : حُبِسْنَا یَوْمَ الْخَنْدَقِ عَنِ الظُّہْرِ ، وَالْعَصْرِ ، وَالْمَغْرِبِ ، وَالْعِشَائِ ، حَتَّی کُفِینَا ذَلِکَ ، وَذَلِکَ قَوْلُ اللہِ تَبَارَکَ وَتَعَالَی : {وَکَفَی اللَّہُ الْمُؤْمِنِینَ الْقِتَالَ وَکَانَ اللَّہُ قَوِیًّا عَزِیزًا} ، فَقَامَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ بِلاَلاً فَأَقَامَ ، فَصَلَّی الظُّہْرَ کَمَا کَانَ یُصَلِّیہَا قَبْلَ ذَلِکَ ، ثُمَّ أَقَامَ ، فَصَلَّی الْعَصْرَ کَمَا کَانَ یُصَلِّیہَا قَبْلَ ذَلِکَ ، ثُمَّ أَقَامَ الْمَغْرِبَ ، فَصَلاَہَا کَمَا کَانَ یُصَلِّیہَا قَبْلَ ذَلِکَ ، ثُمَّ أَقَامَ الْعِشَائَ ، فَصَلاَہَا کَمَا کَانَ یُصَلِّیہَا قَبْلَ ذَلِکَ ، وَذَلِکَ قَبْلَ أَنْ یَنْزِلَ : {فَإِنْ خِفْتُمْ فَرِجَالاً ، أَوْ رُکْبَانًا}۔
- وَذُکِرَ أَنَّ أَبَا حَنِیفَۃَ قَالَ : إِذَا فَاتَتْہُ الصَّلَوَاتُ لَمْ یُؤَذِّن فِی شَیئٍ مِنْہَا ، وَلَمْ یُقِم۔
(٣٧٦٥٦) حضرت عبد الرحمن بن ابو سعید خدری اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ہمیں خندق کے دن ظہر، عصر ، مغرب اور عشاء سے روکے رکھا گیا (یعنی مشرکین نے روک رکھا) یہاں تک کہ ہماری اس بارے میں کفایت کردی گئی اور اس بارے میں ارشاد خداوندی ہے۔ { وَکَفَی اللَّہُ الْمُؤْمِنِینَ الْقِتَالَ وَکَانَ اللَّہُ قَوِیًّا عَزِیزًا } پس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھڑے ہوئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت بلال کو حکم دیا تو انھوں نے اقامت کہی پس آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ظہر ادا کی جس طرح آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس سے پہلے ظہر پڑھا کرتے تھے۔ پھر حضرت بلال نے اقامت کہی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عصر کی نماز پڑھی جس طرح آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس سے پہلے پڑھا کرتے تھے۔ پھر حضرت بلال نے اقامت کہی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مغرب ادا کی جس طرح آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس سے پہلے مغرب پڑھتے تھے۔ پھر حضرت بلال نے عشاء کے لیے اقامت کہی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عشاء کی نماز پڑھی جس طرح کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس سے پہلے عشاء پڑھا کرتے تھے۔ اور یہ واقعہ { فَإِنْ خِفْتُمْ فَرِجَالاً ، أَوْ رُکْبَانًا } کے اترنے سے پہلے کا ہے۔
اور (امام) ابوحنیفہ کا قول یہ ذکر کیا گیا ہے کہ : جب آدمی کی کئی نمازیں فوت ہوجائیں تو ان میں سے کسی کے لیے اذان کہی جائے گی اور نہ اقامت کہی جائے گی۔