(۳۷۶۸۱) حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُکَیْنٍ ، حَدَّثَنَا مُعَرِّفٌ ، حَدَّثَتْنِی حَفْصَۃُ ابْنَۃُ طَلْقٍ ، امْرَأَۃٌ مِنَ الْحَیِّ سَنَۃَ تِسْعِینَ ، عَنْ جَدِّی أَبِی عَمِیرَۃَ رُشَیْدِ بْنِ مَالِکٍ ، قَالَ : کُنْتُ عِنْدَ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ جَالِسًا ذَاتَ یَوْمٍ ، فَجَائَ رَجُلٌ بِطَبَقٍ عَلَیْہِ تَمْرٌ ، فَقَالَ : مَا ہَذَا ، صَدَقَۃٌ أَمْ ہَدِیَّۃٌ ؟ فَقَالَ الرَّجُلُ : بَلْ صَدَقَۃٌ ، فَقَدَّمَہَا إِلَی الْقَوْمِ، وَالْحَسَنُ مُتَعَفِّرٌ بَیْنَ یَدَیْہِ ، فَأَخَذَ تَمْرَۃً فَجَعَلَہَا فِی فِیہِ ، فَنَظَرَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِلَیْہِ ، فَأَدْخَلَ إِصْبَعَہُ فِی فِیہِ ، ثُمَّ قَالَ بِہَا ، ثُمَّ قَالَ : إِنَّا آَلُ مُحَمَّدٍ لاَ نَأْکُلُ الصَّدَقَۃَ۔
(٣٧٦٨١) حضرت ابو عمیرہ رشید بن مالک روایت کرتے ہیں کہ میں ایک دن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر تھا کہ ایک آدمی طبق لے کر حاضر ہوا جس میں کھجوریں تھیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا۔ یہ کیا ہے ؟ صدقہ ہے یا ہدیہ ؟ اس آدمی نے عرض کیا (ہدیہ نہیں ہے) بلکہ صدقہ ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وہ کھجوروں کا طبق لوگوں کی طرف بڑھا دیا۔ حضرت حسن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے مٹی میں لوٹ رہے تھے تو انھوں نے ایک کھجور پکڑی اور اس کو اپنے منہ میں ڈال لیا۔ پس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی طرف دیکھ لیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی انگلی مبارک ان کے منہ میں داخل کی اور اس کو باہر نکال لیا پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ بلاشبہ ہم آل محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صدقہ نہیں کھاتے۔