(۳۷۶۸۹) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی إِسْمَاعِیلَ ، قَالَ : حَدَّثَنِی سَعِیدُ بْنُ جُبَیْرٍ ، قَالَ : أَقْبَلَ أَبُو یَکْسُومَ صَاحِبُ الْحَبَشَۃِ وَمَعَہُ الْفِیلُ ، فَلَمَّا انْتَہَی إِلَی الْحَرَمِ ، بَرَکَ الْفِیلُ ، فَأَبَی أَنْ یَدْخُلَ الْحَرَمَ ، قَالَ : فَإِذَا وُجِّہَ رَاجِعًا أَسْرَعَ رَاجِعًا ، وَإِذَا أُرِیدَ عَلَی الْحَرَمِ أَبَی ، فَأُرْسِلَ عَلَیْہِمْ طَیْرٌ صِغَارٌ بِیضٌ ، فِی أَفْوَاہِہَا حِجَارَۃٌ أَمْثَالُ الْحِمَّصِ ، لاَ تَقَعُ عَلَی أَحَدٍ إِلاَّ ہَلَکَ۔
(٣٧٦٨٩) حضرت سعید بن جُبیر بیان فرماتے ہیں کہ حبشہ کا امیر ابو یکسوم آیا اور اس کے ساتھ ہاتھی (بھی) تھے۔ پس جب وہ حرم تک پہنچا تو (اس کا) ہاتھی بیٹھ گیا اور اس نے حرم میں داخل ہونے سے انکار کردیا۔ راوی کہتے ہیں جب ابو یکسوم ہاتھی واپسی کے لیے متوجہ کرتا تو ہاتھی خوب تیز رفتار واپس چلتا اور جب حرم کا ارادہ کیا جاتا تو ہاتھی انکار دیتا۔ پس ان پر سفید رنگ کے چھوٹے چھوٹے پرندے بھیجے گئے جن کے منہ میں چنوں کے برابر پتھر تھے وہ پتھر جس پر بھی گرتے اس کو ہلاک کردیتے۔