(۳۷۷۲۰) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ نُمَیْرٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ زِیَادٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو صَخْرَۃَ جَامِعُ بْنُ شَدَّادٍ ، عَنْ طَارِقٍ الْمُحَارِبِیِّ، قَالَ: رَأَیْتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِسُوقِ ذِی الْمَجَازِ ، وَأَنَا فِی بَیَّاعَۃٍ أَبِیعُہَا، قَالَ : فَمَرَّ وَعَلَیْہِ جُبَّۃٌ لَہُ حَمْرَائُ ، وَہُوَ یُنَادِی بِأَعْلَی صَوْتِہِ : أَیُّہَا النَّاسُ ، قُولُوا لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ تُفْلِحُوا ، وَرَجُلٌ یَتْبَعُہُ بِالْحِجَارَۃِ ، قَدْ أَدْمَی کَعْبَیْہِ وَعُرْقُوبَیْہِ ، وَہُوَ یَقُولُ یَا أَیُّہَا النَّاسُ، لاَ تُطِیعُوہُ فَإِنَّہُ کَذَّابٌ، قَالَ: قُلْتُ : مَنْ ہَذَا ؟ قَالُوا : ہَذَا غُلاَمُ بَنِی عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، قُلْتُ : فَمَنْ ہَذَا الَّذِی یَتْبَعُہُ یَرْمِیہِ بِالْحِجَارَۃِ ؟ قَالُوا : عَمُّہُ عَبْدُ الْعُزَّی ، وَہُوَ أَبُو لَہَبٍ۔ (بخاری ۱۴۹۔ حاکم ۲۳۱۱)
(٣٧٧٢٠) حضرت طارق محاربی بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ذوالمجاز کے بازار میں دیکھا۔ اور میں وہاں کوئی چیز فروخت کرنے کے لیے گیا تھا۔ فرماتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (وہاں سے) گزرے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر سُرخ رنگ کا جُبہ تھا ۔ اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بآواز بلند یہ ندا کر رہے تھے۔ ” اے لوگو ! لا الہ الا اللّٰہ کہہ لو۔ تم کامیاب ہو جاؤ گے۔ “ اور ایک آدمی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے پتھر لے کر آ رہا تھا اور اس نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ٹخنے اور ایڑیوں کو خون آلود کردیا تھا اور وہ شخص کہہ رہا تھا۔ اے لوگو ! اس کے پیچھے نہ لگنا ! کیونکہ یہ جھوٹا ہے۔ راوی کہتے ہیں۔ میں نے پوچھا ؟ یہ نوجوان کون ہے ؟ لوگوں نے کہا ۔ یہ بنی عبد المطلب کا لڑکا ہے۔ میں نے پوچھا : یہ آدمی کون ہے جو اس کے پیچھے پتھر مار رہا ہے ؟ لوگوں نے کہا۔ اس کا چچا عبدا لعزی ہے اور یہی ابو لہب ہے۔