hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 37740

.

ابن أبي شيبة

37740
Ibn Abi Shaybah
(۳۷۷۴۱) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، قَالَ : أَوَّلُ مَنْ أَظْہَرَ الإِسْلاَمَ سَبْعَۃٌ : رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَأَبُو بَکْرٍ ، وَبِلاَلٌ ، وَخَبَّابٌ ، وَصُہَیْبٌ ، وَعَمَّارٌ ، وَسُمَیَّۃُ أُمُّ عَمَّارٍ ، فَأَمَّا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَمَنَعَہُ عَمُّہُ ، وَأَمَّا أَبُو بَکْرٍ فَمَنَعَہُ قَوْمُہُ ، وَأُخِذَ الآخَرُونَ فَأُلْبِسُوا أَدْرَاعَ الْحَدِیدِ ، ثُمَّ صَہَرُوہُمْ فِی الشَّمْسِ ، حَتَّی بَلَغَ الْجَہْدُ مِنْہُمْ کُلَّ مَبْلَغٍ ، فَأَعْطَوْہُمْ مَا سَأَلُوا ، فَجَائَ إِلَی کُلِّ رَجُلٍ مِنْہُمْ قَوْمُہُ بِأَنْطَاعِ الأُدْمِ فِیہَا الْمَائُ ، فَأَلْقُوہُمْ فِیہَا ، ثُمَّ حُمِلُوا بِجَوَانِبِہِ إِلاَّ بِلاَلاً ، فَلَمَّا کَانَ الْعَشِیُّ ، جَائَ أَبُو جَہْلٍ فَجَعَلَ یَشْتُمُ سُمَیَّۃَ وَیَرْفُثُ ، ثُمَّ طَعنہا فَقَتَلَہَا ، فَہِیَ أَوَّلُ شَہِیدٍ اُسْتُشْہِدَ فِی الإِسْلاَمِ ، إِلاَّ بِلاَلاً ، فَإِنَّہُ ہَانَتْ عَلَیْہِ نَفْسُہُ فِی اللہِ حَتَّی مَلُّوا ، فَجَعَلُوا فِی عُنُقِہِ حَبْلاً ، ثُمَّ أَمَرُوا صِبْیَانَہُمْ فَاشْتَدُّوا بِہِ بَیْنَ أخْشَبَیْ مَکَّۃَ ، وَجَعَلَ یَقُولُ : أَحَدٌ أَحَدٌ۔
(٣٧٧٤١) حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ شروع میں اسلام کا اظہار کرنے والے سات لوگ تھے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، حضرت ابوبکر ، حضرت بلال ، حضرت خباب ، حضرت صہیب ، حضرت عمار ، ام عمار حضرت سمیہ ۔
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے (کفار کے لئے) ان کے چچا مانع بن گئے اور حضرت ابوبکر کی طرف سے (کفار کے لئے) ان کی قوم مانع بن گئی اور دیگر لوگ پکڑ لیے گئے اور انھیں لوہے کی قمیصیں پہنائی گئیں۔ پھر کفار نے ان کو سورج میں تپنے کے لیے چھوڑ دیا ۔ حتی کہ ان کی مشقت انتہا درجہ کو پہنچ گئی تو انھوں نے سوال کیا ان کے سوال کو پورا کردیا۔ پس ان میں سے ہر آدمی کی قوم اس کے پاس آئی جس میں پانی تھا اور انھیں اس میں ڈال دیا۔ پھر اس کی اطراف سے اٹھا لیا۔ سوائے حضرت بلال کے۔ پھر جب رات ہوئی تو ابو جہل آیا اور حضرت سمیّہ کو سبّ و شتم کرنے لگا پھر ابو جہل نے ان کو نیزہ مارا اور قتل کردیا۔ پس یہ اسلام میں شہید ہونے والی پہلی شہیدہ ہیں۔ سو حضرت بلال نے اپنی جان کو اللہ کے لیے بےوقعت سمجھ لیا ۔ یہاں تک کہ مشرکین بےتاب ہوگئے اور انھوں نے آپ کی گردن میں رسی ڈال دی پھر مشرکین نے اپنے بچوں کو حکم دیا اور انھوں نے حضرت بلال کو مکہ کے پہاڑوں کے درمیان گھسیٹنا شروع کیا۔ اور حضرت بلال نے احدٌ احدٌ کہنا شروع کیا۔