hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 37753

.

ابن أبي شيبة

37753
Ibn Abi Shaybah
(۳۷۷۵۴) حدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَعْلَی الأَسْلَمِیُّ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ الْمُؤَمَّلِ ، عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : کَانَ أَوَّلُ إِسْلاَمِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ : ضَرَبَ أُخْتِی الْمَخَاضُ لَیْلاً ، فَأُخْرِجْتُ مِنَ الْبَیْتِ ، فَدَخَلْتُ فِی أَسْتَارِ الْکَعْبَۃِ فِی لَیْلَۃٍ قَارَّۃٍ ، قَالَ : فَجَائَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ الْحِجْرَ وَعَلَیْہِ نَعْلاَہُ ، فَصَلَّی مَا شَائَ اللَّہُ ، ثُمَّ انْصَرَفَ ، قَالَ : فَسَمِعْتُ شَیْئًا لَمْ أَسْمَعْ مِثْلَہُ ، فَخَرَجْتُ فَاتَّبَعْتُہُ ، فَقَالَ : مَنْ ہَذَا ؟ فَقُلْتُ : عُمَرَ ، قَالَ : یَا عُمَرُ ، مَا تَتْرُکُنِی نَہَارًا ، وَلاَ لَیْلاً ، قَالَ : فَخَشِیتُ أَنْ یَدْعُوَ عَلَیَّ ، قَالَ : فَقُلْتُ : أَشْہَدُ أَنْ لاَ إِلَہَ إلاَّ اللَّہُ ، وَأَنَّک رَسُولُ اللہِ ، قَالَ : فَقَالَ : یَا عُمَرُ ، اُسْتُرْہُ ، قَالَ : فَقُلْتُ : وَالَّذِی بَعَثَک بِالْحَقِّ لأَعْلِنَنَّہُ کَمَا أَعْلَنْتُ الشِّرْکَ۔
(٣٧٧٥٤) حضرت جابر سے روایت ہے کہ حضرت عمر کے اسلام کا اوّل (زمانہ) تھا۔ فرماتے ہیں۔ حضرت عمر بیان کرتے ہیں۔ ایک رات میری بہن کو اونٹنی نے مارا تو مجھے گھر سے نکال دیا گیا۔ پس میں ایک ٹھنڈی رات کو کعبہ کے پردوں میں داخل ہوا۔ حضرت عمر کہتے ہیں۔ پس نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے اور آپ حجر اسود پر داخل ہوئے جبکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جوتے پہنے ہوئے تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز پڑھی جتنی دیر اللہ تعالیٰ نے چاہا پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) واپس مڑے۔ حضرت عمر کہتے ہیں۔ میں نے ایسی شئی سُنی جس کی مثل میں نے (پہلے) نہیں سُنی تھی۔ پس میں نکلا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے ہو لیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : یہ کون ہے ؟ میں نے عرض کیا۔ عمر ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے عمر ! تو مجھے دن کو چھوڑتا ہے اور نہ ہی رات کو ۔ حضرت عمر کہتے ہیں : مجھے اس بات کا خوف ہوا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے لیے بد دعا کردیں گے۔ فرماتے ہیں : میں نے کہا : میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور بلاشبہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ فرماتے ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے عمر ! اس کو چھپاؤ۔ فرماتے ہیں : میں نے عرض کیا۔ قسم اس ذات کی ! جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے۔ البتہ میں ضرور بالضرور اس کا یوں ہی اعلان کروں گا جیسا کہ میں نے شرک کا اعلان کیا تھا۔