(۳۷۷۸۷) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْحَکَمِ بْنِ ثَوْبَانَ ، عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ ؛ أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَعَثَ عَلْقَمَۃَ بْنَ مُحْرِزٍ عَلَی بَعْثٍ أَنَا فِیہِمْ ، فَلَمَّا انْتَہَی إِلَی رَأْسِ غُزَاتِہِ ، أَوْ کَانَ بِبَعْضِ الطَّرِیقِ ، اسْتَأْذَنَتْہُ طَائِفَۃٌ مِنَ الْجَیْشِ فَأَذِنَ لَہُمْ ، وَأَمَّرَ عَلَیْہِمْ عَبْدَ اللہِ بْنَ حُذَافَۃَ بْنِ قَیْسٍ السَّہْمِی ، فَکُنْتُ فِیمَنْ غَزَا مَعَہُ ، فَلَمَّا کُنَّا بِبَعْضِ الطَّرِیقِ أَوْقَدَ الْقَوْمُ نَارًا لِیَصْطَلُوا ، أَوْ لِیَصْنَعُوا عَلَیْہَا صَنِیعًا لَہُمْ ، فَقَالَ عَبْدُ اللہِ ، وَکَانَتْ فِیہِ دُعَابَۃٌ : أَلَیْسَ لِی عَلَیْکُمَ السَّمْعُ وَالطَّاعَۃُ ؟ قَالُوا : بَلَی ، قَالَ : فَمَا أَنَا بِآمِرِکُمْ شَیْئًا إِلاَّ صَنَعْتُمُوہُ ؟ قَالُوا : نَعَمْ ، قَالَ : فَإِنِّی أَعْزِمُ عَلَیْکُمْ إِلاَّ تَوَاثَبْتُمْ فِی ہَذِہِ النَّارِ ، قَالَ : فَقَامَ نَاسٌ فَتَحَجَّزُوا ، فَلَمَّا ظَنَّ أَنَّہُمْ وَاثِبُونَ ، قَالَ : أَمْسِکُوا عَلَی أَنْفُسِکُمْ ، فَإِنَّمَا کُنْتُ أَمْزَحُ مَعَکُمْ ، فَلَمَّا قَدِمْنَا ذَکَرُوا ذَلِکَ لِرَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : مَنْ أَمَرَکُمْ مِنْہُمْ بِمَعْصِیَۃٍ ، فَلاَ تُطِیعُوہُ۔
(٣٧٧٨٧) حضرت ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے علقمہ بن محرز کو ایک وفد میں امیر بنا کر بھیجا۔ میں بھی اس وفد میں تھا۔ پس جب یہ راستہ میں تھے یا یوں فرمایا کہ کچھ راستہ طے کرچکے تھے تو ان سے لشکر کے ایک گروہ نے اجازت مانگی ۔ انھوں نے ان کو اجازت دے دی۔ اور ان پر عبداللہ بن حذافہ بن قیس سہمی کو امیر مقرر فرما دیا۔ میں بھی ان لوگوں میں شامل تھا جنہوں نے ان کے ہمراہ جہاد میں حصہ لیا تھا۔ پس جب ہم کچھ راستہ طے کرچکے تو لوگوں نے آگ جلائی تاکہ ہاتھ پاؤں گرم کریں یا اس آگ پر کوئی کھانا وغیرہ بنائیں۔ عبداللہ (امیر قافلہ) کہنے لگے۔ یہ مذاق و ہنسی کرتے تھے۔ کیا تم پر میری بات کا سننا اور ماننا واجب نہیں ہے ؟ لوگوں نے کہا : کیوں نہیں ! تو عبداللہ نے کہا : پس میں تمہیں جو بھی حکم دوں گا تم اس کی تعمیل کرو گے ؟ لوگوں نے کہا : ہاں ! عبداللہ نے کہا : میں تمہں تاکیداً یہ حکم دیتا ہوں کہ تم اس آگ میں کود جاؤ ۔ راوی کہتے ہیں : کچھ لوگ کھڑے ہوئے اور اس کے لیے تیار ہوگئے۔ پھر جب عبداللہ کو یقین ہونے لگا کہ یہ لوگ کود جائیں گے تو انھوں نے کہا : تم لوگ ٹھہر جاؤ۔ میں تو تمہارے ساتھ محض مزاح کررہا تھا۔ پھر جب واپس آئے تو ہم نے یہ واقعہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے ذکر کیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا۔ تمہیں، ان (امرائ) میں سے جو گناہ کا حکم دے تو تم اس کی بات نہ مانو۔