hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 37791

.

ابن أبي شيبة

37791
Ibn Abi Shaybah
(۳۷۷۹۲) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، قَالَ : حدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ ، عَنْ قَیْسٍ ، قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَمْرًا عَلَی جَیْشِ ذَاتِ السَّلاَسِلِ إِلَی لَخْمٍ وَجُذَامٍ وَمَسَایِفِ الشَّامِ ، قَالَ : وَکَانَ فِی أَصْحَابِہِ قِلَّۃٌ ، قَالَ : فَقَالَ لَہُمْ عَمْرُو : لاَ یُوقِدَنَّ أَحَدٌ مِنْکُمْ نَارًا ، فَشَقَّ ذَلِکَ عَلَیْہِمْ ، فَکَلَّمُوا أَبَا بَکْرٍ أَنْ یُکَلِّمَ عَمْرًا فَکَلَّمَہُ ، فَقَالَ : لاَ یُوقِدُ أَحَدٌ نَارًا إِلاَّ أَلْقَیْتَہُ فِیہَا ، فَقَاتَلَ الْعَدُوَّ فَظَہَرَ عَلَیْہِمْ ، وَاسْتَبَاحَ عَسْکَرَہُمْ ، فَقَالَ النَّاسُ : أَلاَ نَتْبَعُہُمْ ؟ فَقَالَ : لاَ ، إِنِّی أَخْشَی أَنْ یَکُونَ لَہُمْ وَرَائَ ہَذِہِ الْجِبَالِ مَادَّۃٌ یَقْتَطِعُونَ الْمُسْلِمِینَ ، فَشَکَوْہُ إِلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حِینَ رَجَعُوا ، فَقَالَ : صَدَقُوا یَا عَمْرُو ؟ قَالَ : کَانَ فِی أَصْحَابِی قِلَّۃٌ فَخَشِیتُ أَنْ یَرْغَبَ الْعَدُوُّ فِی قَتْلِہِمْ ، فَلَمَّا أَظْہَرَنِی اللَّہُ عَلَیْہِمْ ، قَالُوا : اتْبَعْہُمْ ، قُلْتُ : أَخْشَی أَنْ تَکُونَ لَہُمْ وَرَائَ ہَذِہِ الْجِبَالِ مَادَّۃٌ یَقْتَطِعُونَ بِہَا الْمُسْلِمِینَ ، قَالَ : فَکَأَنَّ النَّبِیّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَمِدَ أَمْرَہُ۔
(٣٧٧٩٢) حضرت قیس سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ذات السلاسل کے لشکر کو لخم، جذام اور مسایف شام کی طرف حضرت عمرو کی امارت میں روانہ فرمایا۔ راوی کہتے ہیں۔ ان کے ساتھیوں کی قلت تھی۔ راوی کہتے ہیں۔ حضرت عمرو نے لوگوں سے کہا۔ تم میں سے کوئی شخص آگ روشن نہ کرے۔ یہ بات لوگوں کو بہت شاق گزری تو لوگوں نے حضرت ابوبکر سے بات کی۔ کہ وہ حضرت عمرو سے بات کریں۔ حضرت ابوبکر نے حضرت عمرو سے اس کے بارے میں بات کی تو آپ نے فرمایا : جو شخص آگ روشن کرے گا تو میں اس شخص کو اسی آگ میں دھکیل دوں گا۔ پھر حضرت عمرو نے دشمن سے لڑائی کی تو ان پر غلبہ پایا اور ان کے لشکر کی جڑ اکھاڑ ڈالی۔ لوگوں نے پوچھا : کیا ہم دشمن کا پیچھا نہ کریں ؟ حضرت عمرو نے فرمایا : نہیں ! مجھے اس بات کا خوف ہے کہ کہیں اس پہاڑ کے پیچھے ان کی کمک موجود نہ ہو۔ جس کے ذریعہ سے وہ مسلمانوں کو ٹکڑے کردیں ۔ جب لوگ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت اقدس میں واپس لوٹے تو انھوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے حضرت عمرو کی شکایت کی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : اے عمرو ! یہ سچ کہہ رہے ہیں ؟ حضرت عمرو نے عرض کیا۔ میرے ساتھیوں کی قلّت تھی۔ مجھے یہ ڈر ہوا کہ دشمن ان میں ان کی قلت کی وجہ سے رغبت کرے گا (اس لیے آگ جلانے سے منع کیا) پس جب اللہ تعالیٰ نے مجھے ان پر غلبہ عطا کیا تو ان لوگوں نے کہا۔ ان کا پیچھا کرو۔ میں نے کہا؛ مجھے یہ خوف ہے کہ اس پہاڑ کی اوٹ میں دشمن کی کمک موجود ہوگی جو مسلمانوں کے ٹکڑے کر دے گی۔ راوی کہتے ہیں۔ گویا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عمرو کی بات کی تعریف فرمائی۔