(۳۷۷۹۴) حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللہِ بْنُ مُوسَی ، قَالَ : أَخْبَرَنَا إِسْرَائِیلُ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ؛ أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَتَبَ إِلَی رِعْیَۃَ السُّحَیْمِیِّ بِکِتَابٍ ، فَأَخَذَ کِتَابَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَرَقَّعَ بِہِ دَلْوَہُ ، فَبَعَثَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ سَرِیَّۃً ، فَأَخَذُوا أَہْلَہُ وَمَالَہُ ، وَأَفْلَتَ رِعْیَۃُ عَلَی فَرَسٍ لَہُ عُرْیَانًا لَیْسَ عَلَیْہِ شَیْئٌ ، فَأَتَی ابْنَتَہُ وَکَانَتْ مُتَزَوِّجَۃً فِی بَنِی ہِلاَلٍ۔
قَالَ : وَکَانُوا أَسْلَمُوا فَأَسْلَمَتْ مَعَہُمْ ، وَکَانُوا دَعُوہُ إِلَی الإِسْلاَمِ۔
قَالَ : فَأَتَی ابْنَتَہُ ، وَکَانَ مَجْلِسُ الْقَوْمُ بِفِنَائِ بَیْتِہَا ، فَأَتَی الْبَیْتَ مِنْ وَرَائِ ظَہْرِہِ ، فَلَمَّا رَأَتْہُ ابْنَتُہُ عُرْیَانًا أَلْقَتْ عَلَیْہِ ثَوْبًا ، قَالَتْ : مَالَکَ ؟ ، قَالَ : کُلُّ الشَّرِ ، مَا تُرِکَ لِی أَہْلٌ ، وَلاَ مَالٌ ، قَالَ : أَیْنَ بَعْلُکِ ؟ قَالَتْ : فِی الإِبِلِ ، قَالَ : فَأَتَاہُ فَأَخْبَرَہُ ، قَالَ : خُذْ رَاحِلَتِی بِرَحْلِہَا ، وَنُزَوِّدُک مِنَ اللَّبَنِ ، قَالَ : لاَ حَاجَۃَ لِی فِیہِ ، وَلَکِنْ أَعْطِنِی قَعُودَ الرَّاعِی وَإِدَاوَۃً مِنْ مَائٍ ، فَإِنِّی أُبَادِرُ مُحَمَّدًا لاَ یَقْسِمُ أَہْلِی وَمَالِی ، فَانْطَلَقَ وَعَلَیْہِ ثَوْبٌ إِذَا غَطَّی بِہِ رَأْسَہُ خَرَجَتْ اسْتُہُ ، وَإِذَا غَطَّی بِہِ اسْتَہُ خَرَجَ رَأْسُہُ۔
فَانْطَلَقَ حَتَّی دَخَلَ الْمَدِینَۃَ لَیْلا ً، فَکَانَ بِحِذَائِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا صَلَّی رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْفَجْرَ ، قَالَ لَہُ : یَا رَسُولَ اللہِ ، اُبْسُطْ یَدَک فَلأُبَایِعْک ، فَبَسَطَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَدَہُ ، فَلَمَّا ذَہَبَ رِعْیَۃُ لِیَمْسَحَ عَلَیْہَا ، قَبَضَہَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ قَالَ لَہُ رِعْیَۃُ : یَا رَسُولَ اللہِ ، اُبْسُطْ یَدَک ، قَالَ : وَمَنْ أَنْتَ ؟ قَالَ : رِعْیَۃُ السُّحَیْمِیُّ ، قَالَ : فَأَخَذَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِعَضُدِہِ فَرَفَعَہَا ، ثُمَّ قَالَ : أَیُّہَا النَّاسُ ، ہَذَا رِعْیَۃُ السُّحَیْمِیُّ الَّذِی کَتَبْتُ إِلَیْہِ فَأَخَذَ کِتَابِی فَرَقَّعَ بِہِ دَلْوَہُ ، فَأَسْلَمَ۔
ثُمَّ قَالَ : یَا رَسُولَ اللہِ ، أَہْلِی وَمَالِی ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : أَمَّا مَالُک فَقَدْ قُسِّمَ بَیْنَ الْمُسْلِمِینَ ، وَأَمَّا أَہْلُک فَانْظُرْ مَنْ قَدَرْت عَلَیْہِ مِنْہُمْ ، قَالَ : فَخَرَجْتُ فَإِذَا ابْنٌ لِی قَدْ عَرَفَ الرَّاحِلَۃَ ، وَإِذَا ہُوَ قَائِمٌ عِنْدَہَا ، فَأَتَیْتَ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : ہَذَا ابْنِی ، فَأَرْسَلَ مَعِی بِلاَلاً ، فَقَالَ : انْطَلِقْ مَعَہُ فَسَلْہُ : أَبُوکَ ہُوَ ؟ فَإِنْ قَالَ نَعَمْ ، فَادْفَعْہُ إِلَیْہِ ، قَالَ : فَأَتَاہُ بِلاَلٌ ، فَقَالَ : أَبُوک ہُوَ ؟ فَقَالَ : نَعَمْ ، فَدَفَعَہُ إِلَیْہِ ، قَالَ : فَأَتَی بِلاَلٌ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : وَاللہِ ، مَا رَأَیْتُ أَحَدًا مِنْہُمَا مُسْتَعْبِرًا إِلَی صَاحِبِہِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : ذَلِکَ جَفَائُ الأْعَرَابِ۔ (احمد ۲۸۵۔ طبرانی ۴۶۳۵)
(٣٧٧٩٤) حضرت شعبی سے روایت ہے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رعی السحیمی کی طرف ایک خط لکھا۔ اس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا خط پکڑا اور اس سے اپنے ڈول کو سی لیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک لشکر روانہ کیا۔ انھوں نے (جا کر) اس کے اہل و عیال اور مال پر قبضہ کرلیا۔ اور رعیہ اپنے ایک گھوڑے پر ننگی حال میں جبکہ اس پر کچھ بھی نہیں تھا سوار ہوا۔ پس یہ اپنی بیٹی کے پاس آیا۔ اور اس کی یہ بیٹی بنی ہلال میں متزوج تھی۔ راوی کہتے ہیں۔ یہ اپنی بیٹی کے پاس آیا۔ اور اس کی بیٹی کے گھر کے صحن میں لوگوں کی مجلس سجتی تھی۔ تو یہ گھر کی پشت کی طرف سے آیا۔ جب اس کو اس کی بیٹی نے عریاں حالت میں دیکھا تو اس نے اس پر کپڑا پھینک دیا۔ اور پوچھا ۔ تمہیں کیا ہوگیا ہے ؟ رعیہ نے جواب دیا۔ مکمل شر واقع ہوگیا ہے۔ میرے لیے میرے اہل اور مال نہیں چھوڑا گیا۔ پھر رعیہ نے پوچھا۔ تیرا شوہر کیا ں ہے ؟ بیٹی نے جواب دیا۔ اونٹوں میں۔ راوی کہتے ہیں۔ پھر اس کا شوہر آیا اور رعیہ نے اس کو ساری بات بتائی۔ اس نے کہا : یہ میری سواری کجاوہ سمیت لے لو اور میں قوت میں تمہیں دودھ بھی دیتا ہوں ؟ رعیہ نے کہا۔ مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے لیکن تم مجھے ایک جوان اونٹ اور پانی کا برتن دے دو تاکہ میں جلدی سے محمد کے پاس پہنچونکہ کہیں وہ میرے اہل و عیال اور مال کو تقسیم نہ کر دے۔ پس وہ اس حالت میں وہاں سے چلا کہ اس پر ایک کپڑا تھا۔ جب وہ اس کپڑے سے اپنا سر ڈھانپتا تھا تو اس کی سرین کھل جاتی تھی۔ اور جب وہ اپنی سرین کو ڈھانپتا تھا تو اس کا سر کھل جاتا تھا۔ پس یہ چلتا رہا۔ یہاں تک کہ رات کے وقت یہ مدینہ میں داخل ہوا۔ پھر یہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے محاذات میں پہنچ گیا۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فجر کی نماز پڑھ چکے تو اس نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا۔ یا رسول اللہ ! اپنا ہاتھ پھیلائیں تاکہ میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیعت کروں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا دست مبارک پھیلایا۔ پس جب رعیہ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دست مبارک پر اپنا ہاتھ رکھنا چاہا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے ہاتھ کو واپس کھینچ لیا۔ رعیہ نے پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اپنا ہاتھ پھیلائیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا۔ تم کون ہو ؟ اس نے جواب دیا۔ رعیۃ السُّحَیمی ہوں۔ راوی کہتے ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی کلائی سے پکڑ کر اس کی کلائی کو بلند کیا پھر فرمایا : اے لوگو ! یہ رعیۃ السُحیمی ہے جس کی طرف میں نے خط لکھا تو اس نے میرا خط لے کر اس سے اپنا ڈول سی لیا اب اسلام لے آیا ہے۔ پھر رعیہ نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میرے اہل و عیال اور میرا مال ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تیرا مال تو مسلمانوں میں تقسیم کردیا گیا ہے۔ اور تیرے اہل و عیال۔ پس ان میں سے تو جس پر قادر ہو ان کو دیکھ لو (مل جائیں گے) رعیہ کہتے ہیں۔ میں باہر آیا تو میرا بیٹا جو کہ کجاوہ پہچان چکا تھا۔ وہ کجاوے کے پاس کھڑا ہوا تھا۔ پس میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے عرض کای۔ یہ میرا بیٹا ہے۔ پھر میرے ساتھ حضرت بلال کو بھیجا گیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کے ساتھ چلے جاؤ اور اس لڑکے سے پوچھو۔ تمہارا والد یہی ہے ؟ پس اگر وہ کہے : ہاں ! تو وہ لڑکا اس کو دے دو ۔ راوی کہتے ہیں۔ حضرت بلال اس جوان کے پاس آئے اور اس سے پوچھا : تمہارا باپ یہی ہے ؟ نوجوان نے جواب دیا : ہاں ! حضرت بلال نے وہ جوان رعیہ کے حوالہ کردیا۔ راوی کہتے ہیں۔ حضرت بلال نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس تشریف لائے اور فرمایا : بخدا ! میں نے ان دونوں میں سے کسی ایک کو اپنے ساتھی کے دیدار پر روتے ہوئے نہیں دیکھا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہی تو اہل دیہات کا اکھڑ پن ہے۔