(۳۷۸۳۱) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ جَدِّہِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، قَالَ: إِنِّی لَفِی الصَّفِّ یَوْمَ بَدْرٍ، فَالْتَفَتُّ عَنْ یَمِینِی، وَعَنْ شِمَالِی، فَإِذَا غُلاَمَانِ حَدِیثَا السِّنِّ ، فَکَرِہْتُ مَکَانَہُمَا، فَقَالَ لِی أَحَدُہُمَا سِرًّا مِنْ صَاحِبِہِ : أَیْ عَمِ ، أَرِنِی أَبَا جَہْلٍ ، قَالَ : قُلْتُ : مَا تُرِیدُ مِنْہُ ؟ قَالَ : إِنِّی جَعَلْتُ لِلَّہِ عَلَیَّ إِنْ رَأَیْتُہُ أَنْ أَقْتُلَہُ ، قَالَ : فَقَالَ الآخَرُ أَیْضًا سِرًّا مِنْ صَاحِبِہِ : أَیْ عَمِ ، أَرِنِی أَبَا جَہْلٍ ، قَالَ : قُلْتُ : وَمَا تُرِیدُ مِنْہُ ؟ قَالَ : جَعَلْتُ لِلَّہِ عَلَیَّ إِنْ رَأَیْتُہُ أَنْ أَقْتُلَہُ ، قَالَ : فَمَا سَرَّنِی بِمَکَانِہِمَا غَیْرُہُمَا ، قَالَ : قُلْتُ : ہُوَ ذَاکَ ، قَالَ : وَأَشَرْتُ لَہُمَا إِلَیْہِ ، فَابْتَدَرَاہُ کَأَنَّہُمَا صَقْرَانِ ، وَہُمَا ابْنَا عَفْرَائَ حَتَّی ضَرَبَاہُ۔ (بخاری ۳۱۴۱)
(٣٧٨٣١) حضرت عبد الرحمن بن عوف سے روایت ہے کہ بدر کے دن میں صف میں کھڑا تھا۔ میں نے اپنے دائیں، بائیں نظر دوڑائی تو دو کم عمر لڑکے دکھائی دیئے۔ میں نے ان کے کھڑا ہونے کو ناپسند کیا۔ ان لڑکوں میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے خفیہ مجھ سے کہا۔ اے چچا جان ! مجھے ابو جہل دکھا دیجئے۔ عبد الرحمن بن عوف فرماتے ہیں۔ میں نے پوچھا۔ تمہیں اس سے کیا مطلب ہے ؟ لڑکے نے جواب دیا۔ میں نے اللہ کا نام لے کر یہ نذر مانی ہے کہ اگر میں اس کو دیکھ لوں گا تو میں اس کو قتل کروں گا۔ عبد الرحمن بن عوف کہتے ہیں۔ دوسرے لڑکے نے بھی اپنے ساتھی سے خفیہ کہا۔ اے چچا جان ! مجھے ابو جہل دکھا دیجئے۔ عبد الرحمن کہتے ہیں۔ میں نے پوچھا۔ تمہیں اس سے کیا مطلب ہے ؟ اس لڑکے نے جواب دیا ۔ میں نے خدا کا نام لے کر یہ نذر مانی ہے کہ اگر میں اس کو دیکھ لوں گا تو میں اس کو قتل کروں گا۔ عبد الرحمن کہتے ہیں۔ (یہ بات سن کر) مجھے ان دونوں کی جگہ کسی اور کا ہونا پسند نہ آیا۔ فرماتے ہیں۔ میں نے کہا : ابو جہل یہ ہے۔ فرماتے ہیں : میں نے ان دونوں کے لیے ابو جہل کی طرف اشارہ کیا ۔ پس وہ دونوں اس پر جھپٹ پڑے گویا کہ وہ شکرے ہیں۔ اور یہ دونوں عفراء کے بیٹے تھے۔ یہاں تک کہ انھوں نے ابو جہل کو مار دیا۔