hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 37832

.

ابن أبي شيبة

37832
Ibn Abi Shaybah
(۳۷۸۳۳) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنْ جَرِیرِ بْنِ حَازِمٍ ، عَنْ أَخِیہِ یَزِیدَ بْنِ حَازِمٍ ، عَنْ عِکْرِمَۃَ مَوْلَی ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : لَمَّا نَزَلَ الْمُسْلِمُونَ بَدْرًا وَأَقْبَلَ الْمُشْرِکُونَ ، نَظَرَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِلَی عُتْبَۃَ بْنِ رَبِیعَۃَ وَہُوَ عَلَی جَمَلٍ لَہُ أَحْمَرَ ، فَقَالَ : إِنْ یَکُ عِنْدَ أَحَدٍ مِنَ الْقَوْمِ خَیْرٌ فَعِنْدَ صَاحِبِ الْجَمَلِ الأَحْمَرِ ، إِنْ یُطِیعُوہُ یَرْشُدُوا ، فَقَالَ عُتْبَۃُ : أَطِیعُونِی ، وَلاَ تُقَاتِلُوا ہَؤُلاَئِ الْقَوْمَ ، فَإِنَّکُمْ إِنْ فَعَلْتُمْ لَمْ یَزَلْ ذَاکَ فِی قُلُوبِکُمْ ، یَنْظُرُ الرَّجُلُ إِلَی قَاتِلِ أَخِیہِ وَقَاتِلِ أَبِیہِ ، فَاجْعَلُوا فِیَّ جُبْنَہَا وَارْجِعُوا۔ قَالَ : فَبَلَغَتْ أَبَا جَہْلٍ ، فَقَالَ : انْتَفَخَ وَاللہِ سَحْرُہُ حَیْثُ رَأَی مُحَمَّدًا وَأَصْحَابَہُ ، وَاللہِ مَا ذَاکَ بِہِ ، وَإِنَّمَا ذَاکَ لأَنَّ ابْنَہُ مَعَہُمْ ، وَقَدْ عَلِمَ أَنَّ مُحَمَّدًا وَأَصْحَابَہُ أَکْلَۃُ جَزُورٍ لَوْ قَدِ الْتَقَیْنَا ، قَالَ : فَقَالَ عُتْبَۃُ : سَیَعْلَمُ الْمُصَفِّرُ اسْتِہِ مَنِ الْجَبَانُ الْمُفْسِدُ لِقَوْمِہِ ، أَمَا وَاللہِ إِنِّی لأَرَی تَحْتَ الْقِشَعِ قَوْمًا لَیَضْرِبُنَّکُمْ ضَرْبًا یَدْعُونَ لَکُمُ الْبَقِیعَ ، أَمَا تَرَوْنَ کَأَنَّ رُؤُوسَہُمْ رُؤُوسُ الأَفَاعِی ، وَکَأَنَّ وُجُوہَہُمَ السُّیُوفُ ؟ قَالَ : ثُمَّ دَعَا أَخَاہُ وَابْنَہُ وَمَشَی بَیْنَہُمَا ، حَتَّی إِذَا فَصَلَ مِنَ الصَّفِّ دَعَا إِلَی الْمُبَارَزَۃِ۔
(٣٧٨٣٣) حضرت ابن عباس کے آزاد کردہ غلام حضرت عکرمہ بیان کرتے ہیں کہ جب مسلمان بدر میں اترے اور مشرکین سامنے آئے ۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عتبہ بن ربیعہ کو دیکھا۔ وہ اپنے سرخ رنگ کے اونٹ پر سوار تھا۔ تو فرمایا : اگر کفار میں سے کسی کے پاس خیر (کی بات) ہے تو وہ اس سُرخ رنگ والے اونٹ والے کے پاس ہے۔ اگر یہ کفار اس کی بات مان لیں گے تو اچھے رہیں گے۔ عتبہ نے (لوگوں سے) کہا۔ تم لوگ میری بات مانو اور ان لوگوں (مسلمانوں) سے لڑائی نہ کرو۔ کیونکہ اگر تم نے لڑائی لڑی تو یہ بات تمہارے دلوں میں مسلسل باقی رہے گی۔ یعنی ایک آدمی اپنے بھائی اور اپنے والد کے قاتل کو (زندہ) دیکھتا پھرے گا۔ تم لوگ اس لڑائی کی بزدلی مجھ پر ڈال دو اور لوٹ جاؤ۔ راوی کہتے ہیں : یہ بات ابو جہل تک پہنچی تو اس نے کہا : بخدا ! عتبہ نے جب سے محمد اور اس کے صحابہ کو دیکھا ہے بزدل ہوگیا ہے۔ بخدا ! (جو یہ کہہ رہا ہے) یہ بات نہیں ہے۔ بلکہ بات یہ ہے کہ اس کا بیٹا ان کے ہمراہ ہے۔ حالانکہ اس کو معلوم بھی ہے کہ اگر ہم محمد اور اس کے اصحاب سے لڑیں تو وہ کم عدد لوگ ہیں۔ راوی کہتے ہیں : عتبہ نے کہا : عنقریب اپنی سرین کو زرد کرنے والا جان لے گا کہ اپنی قوم میں فساد ڈالنے والا کون شخص بزدل ہے۔ بخدا ! میں تو ان ملبوسات کے نیچے ایسی قوم کو دیکھ رہا ہوں جو تمہیں ضرور بالضرور اس طرح مارے گی کہ وہ تمہارے لیے بقیع کو پکاریں گے۔ کیا تمہیں دکھائی نہیں دیتا کہ ان کے سر، سانپوں کے سروں کی طرح (بلند) ہیں اور ان کے چہرے تلواروں کی طرح ہں س ؟ راوی کہتے ہیں : پھر اس نے اپنے بھائی اور اپنے بیٹے کو بلایا اور ان کے درمیان چلنے لگا یہاں تک کہ جب وہ صف سے نکل گیا تو اس نے مبارزت کی دعوت دی۔