(۳۷۸۳۷) حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُکَیْنٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنِ الْعَیْزَارِ بْنِ حُرَیْثٍ ، قَالَ : نَادَی مُنَادِی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمَ بَدْرٍ : لَیْسَ لأَحَدٍ مِنَ الْقَوْمِ ، یَعْنِی أَمَانًا إِلاَّ أَبَا الْبَخْتَرِی ، فَمَنْ کَانَ أَسَرَہُ فَلْیُخَلِّ سَبِیلَہُ ، فَإِنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَدْ أَمَّنَہُ ، فَوَجَدُوہُ قَدْ قُتِلَ۔
(٣٧٨٣٧) حضرت عیزار بن حریث بیان کرتے ہیں کہ بدر کے دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے منادی نے ندا کی۔ لوگوں (مشرکین) میں سے کسی کو بھی سوائے ابو البختری کے۔ امن نہیں حاصل ہے۔ پس جس کسی نے ابو البختری کو قید کیا ہے وہ اس کو رہا کر دے۔ کیونکہ رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو امان دیا ہے۔ پھر لوگوں نے ان کو مقتول پایا۔