(۳۷۸۴۹) حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ ، قَالَ : حدَّثَنَا زُہَیْرٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ التَّیْمِیُّ ، أَنَّ أَنَسًا حَدَّثَہُمْ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مَنْ یَنْظُرُ مَا صَنَعَ أَبُو جَہْلٍ ؟ قَالَ : فَانْطَلَقَ ابْنُ مَسْعُودٍ فَوَجَدَہُ قَدْ ضَرَبَہُ ابْنَا عَفْرَائَ حَتَّی بَرَدَ ، قَالَ : أَنْتَ أَبُو جَہْلٍ ، فَأَخَذَ بِلِحْیَتِہِ ، قَالَ : وَہَلْ فَوْقَ رَجُلٍ قَتَلْتُمُوہُ ، أَوْ : رَجُلٍ قَتَلَہُ قَوْمُہُ۔ (بخاری ۳۹۶۲۔ مسلم ۱۱۸)
(٣٧٨٤٩) حضرت سلیمان تیمی بیان کرتے ہیں کہ حضرت انس نے انھیں بیان کیا ۔ کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ابو جہل کے ساتھ جو کچھ ہوا ہے اس کو کون دیکھے گا ؟ راوی کہتے ہیں : حضرت ابن مسعود چل دیئے تو انھوں نے اس کو اس حالت میں پایا کہ اس کو عفراء کے دو بیٹوں نے ایسا مارا تھا کہ وہ ٹھنڈا ہوگیا تھا۔ ابن مسعود نے کہا۔ تو ابو جہل ہے۔ اور آپ نے اس کی داڑھی کو پکڑا۔ میں ان لوگوں میں سب سے بلند ہوں جنھیں تم نے قتل کیا ہے۔