hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 37856

.

ابن أبي شيبة

37856
Ibn Abi Shaybah
(۳۷۸۵۷) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ إِسْرَائِیلَ ، عَنْ سِمَاکٍ ، عَنْ عِکْرِمَۃَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قیلَ لِرَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حِینَ فَرَغَ مِنْ بَدْرٍ : عَلَیْکَ بِالْعِیرِ لَیْسَ دُونَہَا شَیْئٌ ، فَنَادَاہُ الْعَبَّاسُ وَہُوَ أَسِیرٌ فِی وَثَاقِہِ : لاَ یَصْلحُّ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لِمَہْ ؟ قَالَ : إِنَّ اللَّہَ وَعَدَکَ إِحْدَی الطَّائِفَتَیْنِ ، وَقَدْ أَعْطَاکَ مَا وَعَدَکَ۔ (ترمذی ۳۰۸۰۔ احمد ۲۲۹)
(٣٧٨٥٧) حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بدر سے فارغ ہوئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا گیا۔ آپ پر قافلہ لازم ہے اس کے سوا کوئی چیز نہیں ۔ (یعنی قافلہ کو بھی قابو کریں) پس آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو عباس نے۔۔۔ وہ بیڑی میں جکڑے ہوئے تھے۔۔۔ آواز دی۔ یہ درست نہیں ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا۔ کیوں ؟ عباس نے کہا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ سے دو جماعتوں میں سے ایک کا وعدہ کیا تھا۔ سو اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنا (کیا ہوا) وعدہ عطا کردیا ہے۔