hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 37862

.

ابن أبي شيبة

37862
Ibn Abi Shaybah
(۳۷۸۶۳) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ؛ أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ شَاوَرَ حِینَ بَلَغَہُ إِقْبَالُ أَبِی سُفْیَانَ ، قَالَ : فَتَکَلَّمَ أَبُو بَکْرٍ ، فَأَعْرَضَ عَنْہُ ، ثُمَّ تَکَلَّمَ عُمَرُ ، فَأَعْرَضَ عَنْہُ ، فَقَالَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَۃَ : إِیَّانَا تُرِیدُ یَا رَسُولَ اللہِ ؟ وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ لَوْ أَمَرْتَنَا أَنْ نُخِیضَہَا الْبَحْرَ لأَخَضْنَاہَا ، وَلَوْ أَمَرْتنَا أَنْ نَضْرِبَ أَکْبَادَہَا إِلَی بَرْکِ الْغِمَادِ لَفَعَلْنَا ، قَالَ : فَنَدَبَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ النَّاسَ۔ قَالَ : فَانْطَلَقُوا حَتَّی نَزَلُوا بَدْرًا وَرَدَتْ عَلَیْہِمْ رَوَایَا قُرَیْشٍ ، وَفِیہِمْ غُلاَمٌ أَسْوَدُ لِبَنِی الْحَجَّاجِ ، فَأَخَذُوہُ ، فَکَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَسْأَلُونَہُ عَنْ أَبِی سُفْیَانَ وَأَصْحَابِہِ ، فَیَقُولُ : مَا لِی عِلْمٌ بِأَبِی سُفْیَانَ ، وَلَکِنْ ہَذَا أَبُو جَہْلٍ ، وَعُتْبَۃُ ، وَشَیْبَۃُ ، وَأُمَیَّۃُ بْنُ خَلَفٍ ، فَإِذَا قَالَ ذَلِکَ ضَرَبُوہُ ، فَإِذَا ضَرَبُوہُ ، قَالَ : نَعَمْ ، أَنَا أُخْبِرُکُمْ ، ہَذَا أَبُو سُفْیَانَ ، فَإِذَا تَرَکُوہُ ، قَالَ : مَا لِی بِأَبِی سُفْیَانَ عِلْمٌ ، وَلَکِنْ ہَذَا أَبُو جَہْلٍ ، وَعُتْبَۃُ ، وَشَیْبَۃُ ، وَأُمَیَّۃُ بْنُ خَلَفٍ فِی النَّاسِ ، فَإِذَا قَالَ ہَذَا أَیْضًا ضَرَبُوہُ۔ وَرَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ یُصَلِّی ، فَلَمَّا رَأَی ذَلِکَ انْصَرَفَ ، قَالَ : وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ ، إِنَّکُمْ لَتَضْرِبُونَہُ إِذَا صَدَقَکُمْ ، وَتَتْرُکُونَہُ إِذَا کَذَبَکُمْ ، قَالَ : وَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : ہَذَا مَصْرَعُ فُلاَنٍ ، یَضَعُ یَدَہُ عَلَی الأَرْضِ ہَاہُنَا وَہَاہُنَا ، فَمَا مَاطَ أَحَدُہُمْ عَنْ مَوْضِعِ یَدِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔ (مسلم ۱۴۰۳۔ ابوداؤد ۲۶۷۴)
(٣٧٨٦٣) حضرت انس سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جب ابو سفیان کے آنے کی خبر پہنچی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مشورہ فرمایا۔ راوی کہتے ہیں۔ حضرت ابوبکر نے گفتگو کی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے اعراض کیا پھر حضرت عمر نے کلام شروع کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے (بھی) اعراض کیا۔ پھر حضرت سعد بن عبادہ نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ کی مراد ہم ہیں ؟ قسم اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے اگر آپ ہمیں گھوڑے سمندر میں ڈالنے کا حکم دیں گے تو البتہ ہم گھوڑوں کو سمندر میں ڈال دیں گے۔ اور اگر آپ ہمیں برک غماد تک گھوڑے دوڑانے کا حکم دیں گے تو ہم یہ بھی کریں گے۔ راوی کہتے ہیں۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کو آمادہ فرمایا۔
٢۔ راوی کہتے ہیں۔ پس صحابہ چل پڑے یہاں تک کہ وہ بدر میں جا کر اترے تو ان کے پاس قریش کے پانی بھرنے والے اونٹ آپہنچے اور ان میں بنو حجاج کا ایک کالا غلام بھی تھا۔ پس صحابہ نے ان کو پکڑ لیا۔ اصحابِ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے ابو سفیان اور اس کے ساتھیوں کے بارے میں سوال کیا۔ اس نے جواب دیا ۔ مجھے ابو سفیان کا کوئی علم نہیں ہے لیکن یہ ابو جہل، عتبہ، شیبہ اور امیہ بن خلف (آ رہے) ہیں۔ پس یہ غلام جب یہ بات کہتا تو صحابہ کرام اس کو مارتے۔ اور جب صحابہ کرام اس کو مارتے تو وہ کہتا۔ ہاں ! میں بتاتا ہوں ۔ یہ ابو سفیان (آ رہا) ہے۔ پھر جب صحابہ کرام اس کو چھوڑ دیتے تو وہ پھر کہتا۔ مجھے ابو سفیان کا کوئی علم نہیں ہے لیکن یہ ابو جہل، عتبہ، شیبہ، اور امیہ بن خلف لوگوں کے ساتھ (آ رہے) ہیں۔ پھر جب وہ یہ بات کہتا تو صحابہ کرام پھر اس کو مارتے۔
٣۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھڑے نماز ادا فرما رہے تھے۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ معاملہ دیکھا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مڑے اور فرمایا : اور جب یہ تمہارے ساتھ جھوٹ بولتا ہے تو تم اس کو چھوڑ دیتے ہو۔ راوی کہتے ہیں۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ فلاں کی جائے قتل ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا ہاتھ زمین پر رکھ کر فرمایا : یہاں ، یہاں۔ پس آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تعیین کردہ جگہ سے کوئی کافر ادھر ادھر (قتل) نہیں ہوا۔