(۳۷۸۶۶) حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُکَیْنٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا یُونُسُ ، عَنْ أَبِی السَّفَرِ ، قَالَ : نَادَی مُنَادِی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمَ بَدْرٍ : مَنْ أَسَرَ أُمَّ حَکِیمٍ بِنْتَ حِزَامٍ فَلْیُخَلِّ سَبِیلَہَا ، فَإِنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَدْ أَمَّنَہَا ، فَأَسَرَہَا رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ وَکَتَفَہَا بِذُؤَابَتِہَا ، فَلَمَّا سَمِعَ مُنَادِیَ رَسُولِ اللہِ خَلَّی سَبِیلَہَا۔
(٣٧٨٦٦) حضرت ابو السفر سے روایت ہے کہ بدر کے دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے منادی نے آواز دی کہ جس کسی نے ام حکیم بنت حزام کو قید کیا ہوا ہے وہ اس کو آزاد کر دے کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو امان دے دی ہے۔ ایک انصاری آدمی نے ان کو قید کیا تھا اور ان کے ہاتھوں کو پچھلی طرف ان کے بالوں کے ساتھ باندھا ہوا تھا۔ پس جب انھوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے منادی کو سُنا تو انھوں نے اس کو آزاد کردیا۔