(۳۷۹۱۷) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا حُمَیْدٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ؛ أَنَّ عَمَّہُ غَابَ عَنْ قِتَالِ بَدْرٍ ، فَقَالَ : غِبْتُ عَنْ أَوَّلِ قِتَالٍ قَاتَلَہُ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْمُشْرِکِینَ ، وَاللَّہِ لَئِنْ أَرَانِی اللَّہُ قِتَالَ الْمُشْرِکِینَ ، لَیَرَیَنَّ اللَّہُ مَا أَصْنَعُ ، فَلَمَّا کَانَ یَوْمُ أُحُدٍ انْکَشَفَ الْمُسْلِمُونَ ، فَقَالَ : اللَّہُمَّ إِنِّی أَعْتَذِرُ إِلَیْکَ مِمَّا صَنَعَ ہَؤُلاَئِ ، یَعْنِی الْمُسْلِمِینَ ، وَأَبْرَأُ إِلَیْکَ مِمَّا جَائَ بِہِ ہَؤُلاَئِ ، یَعْنِی الْمُشْرِکِینَ ، وَتَقَدَّمَ فَلَقِیَہُ سَعْدٌ بِأُخْرَاہَا مَا دُونَ أُحُدٍ ، فَقَالَ سَعْد : أَنَا مَعَکَ ، قَالَ سَعْدٌ : فَلَمْ أَسْتَطِعْ أَصْنَعُ مَا صَنَعَ ، وَوُجِدَ بِہِ بِضْعٌ وَثَمَانُونَ مِنْ ضَرْبَۃٍ بِسَیْفٍ ، وَطَعْنَۃٍ بِرُمْحٍ ، وَرَمْیَۃٍ بِسَہْمٍ ، فَکُنَّا نَقُولُ فِیہِ وَفِی أَصْحَابِہِ نَزَلَتْ : {فَمِنْہُمْ مَنْ قَضَی نَحْبَہُ وَمِنْہُمْ مَنْ یَنْتَظِرُ}۔
(٣٧٩١٧) حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ ان کے چچا ، بدر کی لڑائی میں غیر موجود تھے تو وہ فرماتے تھے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مشرکین کے ساتھ جو پہلی لڑائی لڑی ہے میں اس سے پیچھے رہ گیا ہوں۔ بخدا ! اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے (اب) مشرکین کے ساتھ لڑائی دکھا دی تو میں بھی اللہ تعالیٰ کو اپنا طرز عمل دکھا دوں گا۔ پس جب احد کا دن تھا اور مسلمان چھٹ گئے تو انھوں نے کہا : اے اللہ ! ان لوگوں (مسلمان) نے جو کچھ کیا ہے میں اس پر آپ سے معذرت کرتا ہوں۔ اور یہ لوگ (مشرکین) جو کچھ لے کر آئے ہیں میں آپ کے سامنے اس سے برأت کرتا ہوں۔ اور (یہ کہہ کر) وہ آگے بڑھے۔ تو انھیں حضرت سعد ملے اور حضرت سعد نے کہا۔ میں (بھی) تمہارے ساتھ ہوں۔ حضرت سعد کہتے ہیں، جو انھوں نے کیا وہ میں نہ کرسکا۔ ان کے جسم پر تلواروں کی ضربیں، نیزوں کے وار اور تیروں کے نشانات اَسّی سے کچھ اوپر پائے گئے تھے۔ اور ہم کہا کرتے تھے کہ ان کے اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں ہی یہ آیت نازل ہوئی ہے۔ { فَمِنْہُمْ مَنْ قَضَی نَحْبَہُ وَمِنْہُمْ مَنْ یَنْتَظِرُ }۔