(۳۷۹۲۵) حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ حُبَابٍ ، عَنْ مُوسَی بْنِ عُبَیْدَۃَ ، قَالَ : حدَّثَنِی مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ ؛ أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ یَوْمَ أُحُدٍ : أَقْدِمْ مُصْعَبُ ، فَقَالَ لَہُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ : یَا رَسُولَ اللہِ ، أَلَمْ یُقْتَلْ مُصْعَبٌ ؟ قَالَ : بَلَی ، وَلَکِنْ مَلَکٌ قَامَ مَکَانَہُ ، وَتَسَمَّی بِاسْمِہِ۔
(٣٧٩٢٥) حضرت محمد بن ثابت سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے احد کے دن ارشاد فرمایا : اے مصعب ! آگے بڑھو ! حضرت عبد الرحمن نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کیا مصعب قتل نہیں ہوگئے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیوں نہیں ؟ لیکن ان کی جگہ ایک فرشتہ کھڑا ہے اور وہ انہی کے نام سے مسمّٰی ہے۔