(۳۷۹۲۷) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ؛ أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَخَذَ سَیْفًا یَوْمَ أُحُدٍ ، فَقَالَ : مَنْ یَأْخُذُ مِنِّی ہَذَا ؟ فَبَسَطُوا أَیْدِیَہُمْ ، فَجَعَلَ کُلُّ إِنْسَانٍ مِنْہُمْ یَقُولُ : أَنَا أَنَا ، فَقَالَ : فَمَنْ یَأْخُذُہُ بِحَقِّہِ ؟ قَالَ : فَأَحْجَمَ الْقَوْمُ ، فَقَالَ سِمَاکٌ أَبُو دُجَانَۃَ : أَنَا آخُذُہُ بِحَقِّہِ ، قَالَ : فَأَخَذَہُ ، فَفَلَقَ بِہِ ہَامَ الْمُشْرِکِینَ۔ (مسلم ۱۹۱۷۔ احمد ۱۲۳)
(٣٧٩٢٧) حضرت انس سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے احد کے دن تلوار پکڑی اور فرمایا۔ اس کو مجھ سے کون لے گا ؟ لوگوں نے ہاتھ آگے کئے۔ اور ہر آدمی کہنے لگا۔ میں، میں (لوں گا) ۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ا تلوار کو اس کے حق (کی ادائیگی) کے بدلہ میں کون لے گا ؟ راوی کہتے ہیں۔ پھر لوگ رک گئے ۔ اور سماک ابو دجانہ نے کہا۔ میں اس تلوار کو اس کے حق (کی ادائیگی) کے بدلہ میں لیتا ہوں۔ راوی کہتے ہیں : پھر ابو دجانہ نے وہ تلوار پکڑ لی اور اس کے ذریعہ بہت سے مشرکین کی کھوپڑیاں پھاڑ ڈالیں۔