(۳۷۹۳۵) حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ عِکْرِمَۃَ ، قَالَ : جَائَ عَلِیٌّ بِسَیْفِہِ ، فَقَالَ : خُذِیہِ حَمِیدًا ، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إِنْ کُنْتَ أَحْسَنْتَ الْقِتَالَ الْیَوْمَ ، فَقَدْ أَحْسَنَہُ سَہْلُ بْنُ حُنَیْفٍ ، وَعَاصِمُ بْنُ ثَابِتٍ ، وَالْحَارِثُ بْنُ الصِّمَّۃِ ، وَأَبُو دُجَانَۃَ ، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مَنْ یَأْخُذُ ہَذَا السَّیْفَ بِحَقِّہِ ؟ فَقَالَ أَبُو دُجَانَۃَ : أَنَا ، وَأَخَذَ السَّیْفَ فَضَرَبَ بِہِ حَتَّی جَائَ بِہِ قَدْ حَنَاہُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : أَعْطَیْتَہُ حَقَّہُ ؟ قَالَ : نَعَمْ۔
(٣٧٩٣٥) حضرت عکرمہ سے روایت ہے کہ حضرت علی اپنی تلوار لے کر تشریف لائے اور فرمایا : (فاطمہ) تعریف کی ہوئی تلوار پکڑ لو۔ (اس پر) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اگر تم نے آج کے دن بہترین لڑائی لڑی ہے تو تحقیق سہل بن حنیف، عاصم بن ثابت اور حارث بن صمَّہ اور ابو دجانہ نے بھی بہترین لڑائی لڑی ہے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس تلوار کو اس کے حق (کی ادائیگی) کے بدلے میں کون لے گا ؟ حضرت ابو دجانہ نے کہا۔ میں (لوں گا) اور پھر انھوں نے تلوار پکڑی اور اس کو چلایا یہاں تک کہ جب ابو دجانہ وہ تلوار لے کر (واپس) آئے تو انھوں نے اس کو موڑ ڈالا تھا۔ تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تم نے تلوار کو اس کا حق دے دیا ہے ؟ انھوں نے جواب دیا : جی ہاں !