(۳۷۹۳۹) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَرْوَانَ ، عَنْ عُمَارَۃَ بْنِ أَبِی حَفْصَۃَ ، عَنْ عِکْرِمَۃَ ، قَالَ : شُجَّ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی وَجْہِہِ یَوْمَ أُحُدٍ ، وَکُسِرَتْ رَبَاعِیَتُہُ ، وَذُلِقَ مِنَ الْعَطَشِ ، حَتَّی جَعَلَ یَقَعُ عَلَی رُکْبَتَیْہِ ، وَتَرَکَہُ أَصْحَابُہُ ، فَجَائَ أُبَیُّ بْنُ خَلَفٍ یَطْلُبُہُ بِدَمِ أَخِیہِ أُمَیَّۃَ بْنِ خَلَفٍ ، فَقَالَ : أَیْنَ ہَذَا الَّذِی یَزْعُمُ أَنَّہُ نَبِیٌّ ، فَلْیَبْرُزْ لِی ، فَإِنَّہُ إِنْ کَانَ نَبِیًّا قَتَلَنِی ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: أَعْطُونِی الْحَرْبَۃَ ، فَقَالُوا : یَا رَسُولَ اللہِ ، وَبِکَ حَرَاکٌ ؟ فَقَالَ : إِنِّی قَدَ اسْتَسْقَیْتُ اللَّہَ دَمَہُ ، فَأَخَذَ الْحَرْبَۃَ ، ثُمَّ مَشَی إِلَیْہِ فَطَعَنَہُ فَصَرَعَہُ عَنْ دَابَّتِہِ ، وَحَمَلَہُ أَصْحَابُہُ فَاسْتَنْقَذُوہُ ، فَقَالُوا لَہُ : مَا نَرَی بِکَ بَأْسًا ، قَالَ : إِنَّہُ قَدَ اسْتَسْقَی اللَّہَ دَمِی ، إِنِّی لأَجِدُ لَہَا مَا لَوْ کَانَتْ عَلَی رَبِیعَۃَ وَمُضَرَ لَوَسِعَتْہُمْ۔
(٣٧٩٣٩) حضرت عکرمہ سے روایت ہے کہ احد کے دن، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سر مبارک میں زخم آگیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے والے چار دانت مبارک شہید ہوگئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پیاس کی وجہ سے لبِ دم ہوگئے۔ یہاں تک کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گھٹنوں کے بل جھکنے لگے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے علیحدہ ہوگئے۔ تو ابی بن خلف، اپنے بھائی امیہ بن خلف کے خون کا مطالبہ کرتا ہوا آیا اور کہنے لگا۔ کہاں ہے وہ آدمی ! جو گمان کرتا ہے کہ وہ نبی ہے۔ میرے ساتھ مبارزت کرے۔ پس اگر وہ نبی ہوا تو وہ مجھے قتل کر دے گا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھے نیزہ دے دو ۔ صحابہ نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ میں حرکت ہے ؟ (یعنی آپ تو پیاسے ہیں) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ۔ بلاشبہ میں نے اللہ تعالیٰ سے اس کے خون کے ذریعہ سے سیرابی طلب کی ہے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نیزہ پکڑا اور اس کی طرف چل دیئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو نیزہ مارا اور اس کو اس کی سواری سے گرا دیا۔ اُبی بن خلف کے ساتھیوں نے اس کو اٹھا لیا اور اس کو بچا کرلے گے اور انھوں نے اس کو کہا۔ ہمارے خیال میں تو تمہیں کچھ بھی نہیں ہوا ؟ اس نے جواب دیا۔ بلاشبہ انھوں (نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ) نے اللہ تعالیٰ سے میرے خون کے ذریعہ سیرابی مانگی ہے۔ پس میں وہ تکلیف محسوس کررہا ہوں کہ اگر وہ قبیلہ ربیعہ اور قبیلہ مضر کے لیے ہوتی تو ان کو بھی کفایت کر جاتی۔