(۳۷۹۴۲) حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الزُّہْرِیُّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ ، عَنْ أَبِیہِ ؛ أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ یَوْمَ أُحُدٍ : مَنْ رَأَی مَقْتَلَ حَمْزَۃَ ؟ فَقَالَ رَجُلٌ أَعْزَلُ : أَنَا رَأَیْتُ مَقْتَلَہُ ، قَالَ : فَانْطَلِقْ فَأَرِنَاہُ ، فَخَرَجَ حَتَّی وَقَفَ عَلَی حَمْزَۃَ ، فَرَآہُ قَدْ بُقِرَ بَطْنُہُ ، وَقَدْ مُثِّلَ بِہِ ، فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللہِ ، مُثِّلَ بِہِ وَاللہِ ، فَکَرِہَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ یَنْظُرَ إِلَیْہِ ، وَوَقَفَ بَیْنَ ظَہْرَانَیِ الْقَتْلَی ، فَقَالَ : أَنَا شَہِیدٌ عَلَی ہَؤُلاَئِ الْقَوْمِ ، لُفُّوہُمْ فِی دِمَائِہِمْ ، فَإِنَّہُ لَیْسَ جَرِیحٌ یُجْرَحُ ، إِلاَّ جُرْحُہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ یَدْمَی ، لَوْنُہُ لَوْنُ الدَّمِ ، وَرِیحُہُ رِیحُ الْمِسْک ، قَدِّمُوا أَکْثَرَ الْقَوْمِ قُرْآنًا ، فَاجْعَلُوہُ فِی اللَّحْدِ۔
(٣٧٩٤٢) حضرت عبد الرحمن بن کعب بن مالک، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے احد کے دن ارشاد فرمایا : حمزہ کا مقتل کس نے دیکھا ہے ؟ ایک نہتے شخص نے کہا۔ میں نے حمزہ کا مقتل دیکھا ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ چلو اور ہمیں ان کا مقتل دکھاؤ۔ پس وہ شخص نکلا یہاں تک کہ وہ حضرت حمزہ کی لاش پر آ کر کھڑا ہوا اور اس نے حمزہ کو دیکھا کہ ان کے پیٹ کو پھاڑا گیا ہے اور ان کا مثلہ بنایا گیا ہے۔ تو اس آدمی نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! بخدا ! ان کا تو مثلہ کیا گیا ہے۔ پس نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حمزہ کی طرف دیکھنے کو ناپسند کیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مقتولین کے درمیان کھڑے ہوگئے اور فرمایا : میں بذات خود ان لوگوں پر گواہ ہوں ۔ انھیں ان کے خون سمیت لپیٹ دو ۔ کیونکہ (ان میں سے) کوئی بھی مجروح، جس کو زخمی کیا گیا ہے۔ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کا زخم خون برسا رہا ہوگا۔ اس کا رنگ خون کا رنگ ہوگا اور اس کی خوشبو مشک کی خوشبو ہوگی۔ ان لوگوں میں سے زیادہ قرآن والے کو مقدم کرو اور اس کو (پہلے) لحد میں داخل کرو۔