(۳۷۹۴۷) حَدَّثَنَا مَالِکٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ اللہِ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِی الْمُغِیرَۃِ ، عَنِ ابْنِ أَبْزَی ، قَالَ : بَارَزَ عَلِیٌّ یَوْمَ أُحُدٍ مِنْ بَنِی شَیْبَۃَ طَلْحَۃَ وَمُسَافِعًا ، قَالَ : وَسَمَّی إِنْسَانًا آخَرَ ، قَالَ : فَقَتَلَہُمْ سِوَی مَنْ قَتَلَ مِنَ النَّاسِ ، فَقَالَ لِفَاطِمَۃَ حَیْثُ نَزَلَ : خُذِی السَّیْفَ غَیْرَ ذَمِیمٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لَئِنْ کُنْتَ أَبْلَیْتَ ، فَقَدْ أَبْلَی فُلاَنٌ الأَنْصَارِیُّ ، وَفُلاَنٌ الأَنْصَارِیُّ ، وَفُلاَنٌ الأَنْصَارِیُّ حَتَّی انْقَطَعَ نَفَسُہُ ، أَوْ کَادَ یَنْقَطِعُ نَفَسُہُ۔
(٣٧٩٤٧) حضرت ابن ابزی سے روایت ہے کہ احد کے دن حضرت علی نے بنی شیبہ میں سے طلحہ اور مسافع کے ساتھ مبارزت کی۔ راوی کہتے ہیں : ایک اور آدمی کا نام بھی (استاد) نے لیا تھا۔ راوی کہتے ہیں : پس حضرت علی نے جو عام لوگوں (کفار) کو قتل کیا تھا ان کے سوا ان تینوں کو بھی قتل کردیا۔ پھر جب آپ واپس تشریف لائے تو حضرت فاطمہ سے کہا۔ بغیر مذمت کے تلوار کو پکڑو۔ تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اگر تم نے عمدگی سے قتال کیا ہے تو فلاں انصاری نے بھی اور فلاں انصاری نے بھی اور فلاں انصاری نے بھی بہترین قتال کیا ہے۔ یہاں تک کہ اپنی جان ختم کردی یا جان ختم کرنے کے قریب ہوگئے۔