hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 37957

.

ابن أبي شيبة

37957
Ibn Abi Shaybah
(۳۷۹۵۸) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ جَدِّہِ ، عَنْ عَائِشَۃَ ، قَالَتْ : قَدِمْنَا فِی حَجٍّ ، أَوْ عُمْرَۃٍ فَتُلُقِّینَا بِذِی الْحُلَیْفَۃِ ، وَکَانَ غِلْمَانُ الأَنْصَارِ یَتَلَقَّوْنَ أَہَالِیَہُمْ ، فَلَقُوا أُسَیْدَ بْنَ حُضَیْرٍ ، فَنَعَوْا لَہُ امْرَأَتَہُ فَتَقَنَّعَ ، فَجَعَلَ یَبْکِی ، فَقُلْتُ : غَفَرَ اللَّہُ لَکَ ، أَنْتَ صَاحِبُ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَلَکَ مِنَ السَّابِقَۃِ وَالْقِدَمِ مَالَکَ ، وَأَنْتَ تَبْکِی عَلَی امْرَأَۃٍ ، قَالَتْ : فَکَشَفَ رَأْسَہُ ، فَقَالَ : صَدَقْتِ لَعَمْرِی ، لَیَحُقَّنَّ أَنْ لاَ أَبْکِیَ عَلَی أَحَدٍ بَعْدَ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ ، وَقَدْ قَالَ لَہُ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَا قَالَ ، قُلْتُ : وَمَا قَالَ لَہُ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : لَقَدَ اہْتَزَّ الْعَرْشُ لِوَفَاۃِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ ، قَالَتْ : وَہُوَ یَسِیرُ بَیْنِی وَبَیْنَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔
(٣٧٩٥٨) حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ ہم حج یا عمرہ کے سلسلہ میں آئے اور ذوالحلیفہ سے ہمارا استقبال کیا گیا۔ انصار کے بچے اپنے گھر والوں کا استقبال کیا کرتے تھے۔ لوگ حضرت اسید ابن حضیر سے ملے اور انھیں ان کی اہلیہ کی وفات کی خبر دی۔ انھوں نے سر پر کپڑا کرلیا اور رونا شروع کردیا۔ میں نے ان سے کہا : اللہ تعالیٰ تمہاری بخشش کریں۔ تم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھی ہو اور تمہیں سبقت اور قدامت میں بھی ایک مقام حاصل ہے اور تم ایک عورت پر رو رہے ہو ؟ عائشہ کہتی ہیں۔ انھوں نے اپنا سر کھول دیا اور کہا : میری عمر کی قسم ! آپ نے سچ کہا ہے۔ حضرت سعدبن معاذ کے بعد کسی پر بھی رونے کا حق باقی نہیں ہے۔ ا ن کے بارے میں تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو فرما دیا تھا فرما دیا تھا۔ میں نے پوچھا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے بارے میں کیا کہا تھا۔ انھوں نے کہا۔ (یہ کہا تھا) بلاشبہ ! سعد بن معاذ کی وفات پر عرش بھی جھوم گیا ہے۔ عائشہ کیتر ہیں۔ اُسید ، میرے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے درمیان چل رہے تھے۔