(۳۷۹۶۳) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ ، عَنْ أَبِیہِ ؛ أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ صَافَّ الْمُشْرِکِینَ یَوْمَ الْخَنْدَقِ ، قَالَ ، وَکَانَ یَوْمًا شَدِیدًا لَمْ یَلْقَ الْمُسْلِمُونَ مِثْلَہُ قَطُّ ، قَالَ : وَرَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ ، وَأَبُو بَکْرٍ مَعَہُ جَالِسٌ ، وَذَلِکَ زَمَانُ طَلْعِ النَّخْلِ ، قَالَ : وَکَانُوا یَفْرَحُونَ بِہِ إِذَا رَأَوْہُ فَرَحًا شَدِیدًا ، لأَنَّ عَیْشَہُمْ فِیہِ ، قَالَ ، فَرَفَعَ أَبُو بَکْرٍ رَأْسَہُ فَبَصُرَ بِطَلْعَۃٍ ، وَکَانَتْ أَوَّلَ طَلْعَۃٍ رُئِیَتْ ، قَالَ : فَقَالَ ہَکَذَا بِیَدِہِ : طَلْعَۃٌ یَا رَسُولَ اللہِ ، مِنَ الْفَرَحِ ، قَالَ : فَنَظَرَ إِلَیْہِ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَتَبَسَّمَ ، وَقَالَ : اللَّہُمَّ لاَ تَنْزِعْ مِنَّا صَالِحَ مَا أَعْطَیْتَنَا ، أَوْ صَالِحًا أَعْطَیْتَنَا۔
(٣٧٩٦٣) حضرت ہشام بن عروہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ خندق کے دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مشرکین کے مقابل صف بندی فرمائی۔ راوی کہتے ہیں : یہ بہت سخت دن تھا۔ مسلمانوں نے اس جیسا دن کبھی نہیں دیکھا تھا۔ راوی کہتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف فرما تھے اور حضرت ابوبکر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تشریف فرما تھے اور یہ وقت کھجوروں کی پیداواری کا تھا۔ راوی کہتے ہیں۔ لوگ کھجور کے زمانہ کو دیکھ کر بہت خوش ہوتے تھے کیونکہ ان کی زندگی (کا مدار ہی) اس پر تھا۔ راوی کہتے ہیں : پھر ابوبکر نے سر اٹھایا تو انھیں کھجور کا شگوفہ دکھائی دیا۔ یہ پہلا دکھائی دینے والا شگوفہ تھا۔ راوی کہتے ہیں : انھوں نے خوشی کی وجہ سے اپنے ہاتھ سے اشارہ کر کے کہا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! شگوفہ۔ راوی کہتے ہیں : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی طرف دیکھ کر تبسم فرمایا۔ اے اللہ ! جو صالح چیز تو ہمیں عطا کرے وہ ہم سے واپس نہ چھیننا۔