(۳۷۹۶۹) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِی ذِئْبٍ ، عَنِ الْمَقْبُرِیِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : حُبِسْنَا یَوْمَ الْخَنْدَقِ عَنِ الظُّہْرِ ، وَالْعَصْرِ ، وَالْمَغْرِبِ ، وَالْعِشَائِ حَتَّی کُفِینَا ذَلِکَ ، وَذَلِکَ قَوْلُ اللہِ : {وَکَفَی اللَّہُ الْمُؤْمِنِینَ الْقِتَالَ ، وَکَانَ اللَّہُ قَوِیًّا عَزِیزًا} فَقَامَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ بِلاَلاً فَأَقَامَ ، ثُمَّ صَلَّی الظُّہْرَ کَمَا کَانَ یُصَلِّیہَا قَبْلَ ذَلِکَ ، ثُمَّ أَقَامَ الْعَصْرَ فَصَلاَہَا کَمَا کَانَ یُصَلِّیہَا قَبْلَ ذَلِکَ ، ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّی الْمَغْرِبَ کَمَا کَانَ یُصَلِّیہَا قَبْلَ ذَلِکَ ، ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّی الْعِشَائَ کَمَا کَانَ یُصَلِّیہَا قَبْلَ ذَلِکَ ، وَذَلِکَ قَبْلَ أَنْ یَنْزِلَ : {فَإِنْ خِفْتُمْ فَرِجَالاً ، أَوْ رُکْبَانًا}۔
(٣٧٩٦٩) حضرت عبد الرحمن بن ابو سعید خدری اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ خندق کے دن ہمیں ظہر، عصر اور مغرب ، عشا سے محبوس رکھا گیا ۔ یہاں تک کہ ہمیں اس سے کفایت دے دی گئی۔ یہی ارشاد خداوندی (کا معنی) ہے۔ { وَکَفَی اللَّہُ الْمُؤْمِنِینَ الْقِتَالَ ، وَکَانَ اللَّہُ قَوِیًّا عَزِیزًا } پھر نبی کریم کھڑے ہوئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت بلال کو حکم دیا۔ انھوں نے اقامت کہی۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ظہر کی نماز پڑھی ، جیسا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس سے پہلے ظہر کی نماز پڑھتے تھے۔ پھر حضرت بلال نے عصر کے لیے اقامت کہی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عصر کی نماز بھی ادا کی جس طرح آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، عصر کی نماز پہلے پڑھتے تھے۔ پھر حضرت بلال نے اقامت کہی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مغرب کی نماز ادا فرمائی جیسا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس سے پہلے مغرب پڑھتے تھے۔ پھر حضرت بلال نے اقامت کہی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عشا کی نماز ادا کی جس طرح آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس سے پہلے عشاء ادا کرتے تھے۔ اور یہ واقعہ { فَإِنْ خِفْتُمْ فَرِجَالاً ، أَوْ رُکْبَانًا } کے نازل ہونے سے پہلے کا ہے۔