(۳۷۹۷۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ إِدْرِیسَ ، عَنْ أَبِی مَعْشَرٍ ، قَالَ : جَائَ الْحَارِثُ بْنُ عَوْفٍ ، وَعُیَیْنَۃُ بْنُ حِصْنٍ ، فَقَالاَ لِرَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَامَ الْخَنْدَقِ : نَکُفُّ عَنْکَ غَطَفَانَ ، عَلَی أَنْ تُعْطِیَنَا ثِمَارَ الْمَدِینَۃِ ، قَالَ : فَرَاوَضُوہُ حَتَّی اسْتَقَامَ الأَمْرُ عَلَی نِصْفِ ثِمَارِ الْمَدِینَۃِ ، فَقَالُوا : اُکْتُبْ بَیْنَنَا وَبَیْنَکَ کِتَابًا ، فَدَعَا بِصَحِیفَۃٍ، قَالَ : وَالسَّعْدَانِ ؛ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ ، وَسَعْدُ بْنُ عُبَادَۃَ جَالِسَانِ ، فَأَقْبَلاَ عَلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالاَ : أَشَیْئٌ أَتَاکَ عَنِ اللہِ ، لَیْسَ لَنَا أَنْ نَعْرِضَ فِیہِ ؟قَالَ : لاَ ، وَلَکِنِّی أَرَدْتُ أَنْ أَصْرِفَ وُجُوہَ ہَؤُلاَئِ عَنِّی، وَیَفْرُغَ وَجْہِی لِہَؤُلاَئِ ، قَالَ : قَالاَ لَہُ : مَا نَالَتْ مِنَّا الْعَرَبُ فِی جَاہِلِیَّتِنَا شَیْئًا إِلاَّ بِشِرًی ، أَوْ قِرًی۔
(بخاری ۲۹۳۱۔ مسلم ۴۳۶)
(٣٧٩٧١) حضرت ابو معشر سے روایت ہے کہ حارث بن عوف اور عیینہ بن حصن آئے اور انھوں نے عام خندق میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا۔ ہم آپ سے غطفان کو روک کر رکھیں گے اس شرط پر کہ آپ ہمیں مدینہ کے پھل دیں گے۔ راوی کہتے ہیں : پھر انھوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کمی بیشی کی بات کی اور معاملہ مدینہ کے نصف پھلوں پر طے ہوگیا۔ انھوں نے کہا۔ ہمارے اور اپنے مابین آپ کوئی تحریر لکھ دیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کاغذ منگوایا ۔ راوی کہتے ہیں : سعد بن معاذ اور سعد بن عبادہ دونوں تشریف فرما تھے۔ وہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف متوجہ ہوئے اور عرض کیا۔ کیا آپ کے پاس اللہ کی طرف سے کوئی ایسی بات آئی ہے جس سے ہم اعراض نہیں کرسکتے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نہیں ! الیکن میرا ارادہ ہے کہ میں ان لوگوں کے چہروں کو خود سے پھیر دوں اور میں اپنے چہرے کو ان کے لیے فارغ کرنا چاہتا ہوں۔ راوی کہتے ہیں۔ دونوں صحابیوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا۔ ہماری جاہلیت کے زمانہ میں عرب نے کبھی ہم سے کچھ نہیں لیا تھا۔ سوائے خریداری اور مہمان نوازی کے۔