(۳۷۹۸۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ نُمَیْرٍ ، وَعَبْدَۃُ ، عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ عَائِشَۃَ ، قَالَتْ : لَمَّا رَجَعَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمَ الْخَنْدَقِ ، وَوَضَعَ السِّلاَحَ وَاغْتَسَلَ ، أَتَاہُ جِبْرِیلُ ، وَقَدْ عَصَبَ رَأْسَہُ الْغُبَارُ ، فَقَالَ : وَضَعْتَ السِّلاَحَ ؟ فَوَاللہِ مَا وَضَعْتُہُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : فَأَیْنَ ؟ قَالَ : ہَاہُنَا ، وَأَوْمَأَ إِلَی بَنِی قُرَیْظَۃَ ، قَالَ : فَخَرَجَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِلَیْہِمْ۔
(٣٧٩٨١) حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یوم الخندق سے واپس تشریف لائے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسلحہ رکھ دیا اور غسل فرما لیا۔ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جبرائیل حاضر ہوئے اور ان کے سر پر غبار تھا تو انھوں نے فرمایا۔ آپ نے اسلحہ رکھ دیا ہے۔ بخدا ! میں نے تو اسلحہ نہیں رکھا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : پھر کدھر ؟ حضرت جبرائیل نے جواب دیا۔ اِدھر ! اور انھوں نے بنو قریظہ کی طرف اشارہ کیا ۔ راوی کہتے ہیں پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بنو قریظہ کی طرف نکل پڑے۔