(۳۷۹۸۳) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، أَخْبَرَنَا ہِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : عَاہَدَ حُیَیُّ بْنُ أَخْطَبَ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ لاَ یُظَاہِرَ عَلَیْہِ أَحَدًا، وَجَعَلَ اللَّہَ عَلَیْہِ کَفِیلاً، قَالَ: فَلَمَّا کَانَ یَوْمُ قُرَیْظَۃَ، أُتِیَ بِہِ وَبِابْنِہِ سَلْمًا ، قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : أَوْفِی الْکَفِیلَ ، فَأَمَرَ بِہِ فَضُرِبَتْ عُنُقَہُ ، وَعُنُقَ ابْنِہِ۔
(٣٧٩٨٣) حضرت محمد سے روایت ہے کہ حیی بن اخطب نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس شرط پر معاہدہ کیا کہ وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلاف کسی کی مدد نہیں کرے گا اور اس بات پر اس نے اللہ تعالیٰ کو کفیل بنایا ۔ راوی کہتے ہیں۔ پھر جب بنو قریظہ کا دن آیا۔ اس کو اور اس کے بیٹے کو لایا گیا ۔ راوی کہتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا انھیں کفیل کے بدلے میں لایا گیا ہے۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے بارے میں حکم دیا ۔ پس اس کی اور اس کے بیٹے کی گردن مار دی گئی۔