(۳۷۹۸۹) حَدَّثَنَا کَثِیرُ بْنُ ہِشَامٍ ، عَنْ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ الأَصَمِّ ، قَالَ : لَمَّا کَشَفَ اللَّہُ الأَحْزَابَ ، وَرَجَعَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِلَی بَیْتِہِ ، فَأَخَذَ یَغْسِلُ رَأْسَہُ ، أَتَاہُ جِبْرِیلُ ، فَقَالَ : عَفَا اللَّہُ عَنْکَ ، وَضَعْتَ السِّلاَحَ وَلَمْ تَضَعْہُ مَلاَئِکَۃُ السَّمَائِ ؟ ائْتِنَا عِنْدَ حِصْنِ بَنِی قُرَیْظَۃَ ، فَنَادَی رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی النَّاسِ : أَنَ ائْتُوا حِصْنَ بَنِی قُرَیْظَۃَ ، ثُمَّ اغْتَسَلَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَأَتَاہُمْ عِنْدَ الْحِصْنِ۔ (ابن سعد ۷۵)
(٣٧٩٨٩) حضرت یزید بن اصم سے روایت ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے لشکروں کو دور کردیا اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، اپنے گھر ی طرف لوٹ گئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا سر مبارک دھونا شروع کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جبرائیل حاضر ہوئے اور کہا۔ اللہ تعالیٰ آپ سے درگزر فرمائے۔ آپ نے اسلحہ رکھ دیا ہے۔ حالانکہ آسمان کے فرشتوں نے اسلحہ نہیں رکھا ؟ آپ ہمارے ساتھ بنو قریظہ کے قلعہ کی طرف تشریف لائیے۔ تو نیا کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں میں منادی کروائی کہ بنو قریظہ کے قلعہ پر پہنچو۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غسل فرمایا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی ان لوگوں کے پاس قلعہ پر تشریف لے گئے۔