(۳۷۹۹۲) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، قَالَ : حدَّثَنَا ہِشَامٌ ، عَنْ أَبِیہِ ؛ أَنَّ أَصْحَابَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی غَزْوَۃِ بَنِی الْمُصْطَلِقِ لَمَّا أَتَوْا الْمَنْزِلَ ، وَقَدْ جَلاَ أَہْلُہُ ، أَجْہَضُوہُمْ ، وَقَدْ بَقِیَ دَجَاجٌ فِی الْمَعْدِنِ ، فَکَانَ بَیْنَ غِلْمَانٍ مِنَ الْمُہَاجِرِینَ وَغِلْمَانٍ مِنَ الأَنْصَارِ قِتَالٌ ، فَقَالَ غِلْمَانٌ مِنَ الْمُہَاجِرِینَ : یَا لَلْمُہَاجِرِینَ ، وَقَالَ غِلْمَانٌ مِنَ الأَنْصَارِ : یَا لَلأَنْصَارِ ، فَبَلَغَ ذَلِکَ عَبْدَ اللہِ بْنَ أُبَیِّ ابْنَ سَلُولَ ، فَقَالَ : أَمَا وَاللہِ لَوْ أَنَّہُمْ لَمْ یُنْفِقُوا عَلَیْہِمَ انْفَضُّوا مِنْ حَوْلِہِ ، أَمَا وَاللہِ : (لَئِنْ رَجَعَنَّا إِلَی الْمَدِینَۃِ لَیُخْرِجَنَّ الأَعَزُّ مِنْہَا الأَذَلَّ) فَبَلَغَ ذَلِکَ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَہُمْ بِالرَّحِیلِ ، فَکَأَنَّہُ یَشْغَلُہُمْ ، فَأَدْرَکَ رَکْبًا مِنْ بَنِی عَبْدِ الأَشْہَلِ فِی الْمَسِیرِ ، فَقَالَ لَہُمْ : أَلَمْ تَعْلَمُوا مَا قَالَ الْمُنَافِقُ عَبْدُ اللہِ بْنُ أُبَیٍّ ؟ قَالُوا : وَمَاذَا قَالَ یَا رَسُولَ اللہِ ؟ قَالَ : قَالَ : أَمَا وَاللہِ لَوْ لَمْ تُنْفِقُوا عَلَیْہِمْ لاَنْفَضُّوا مِنْ حَوْلِہِ ، أَمَا وَاللہِ لَئِنْ رَجَعَنَّا إِلَی الْمَدِینَۃِ لَیُخْرِجَنَّ الأَعَزُّ مِنْہَا الأَذَلَّ ، قَالُوا : صَدَقَ یَا رَسُولَ اللہِ ، فَأَنْتَ وَاللہِ الْعَزِیزُ ، وَہُوَ الذَّلِیلُ۔
(٣٧٩٩٢) حضرت ہشام، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ غزوہ بنو المصطلق میں جب منزل پر پہنچے۔
تو مہاجرین اور انصار کے کم عمر لڑکوں میں کوئی جھگڑا ہوگیا۔ مہاجرین کے لڑکوں نے کہا۔ یا للمہاجرین۔ اور انصار کے لڑکوں نے کہا۔ یا للانصار۔ یہ خبر عبداللہ بن ابی بن سلول کو پہنچی تو اس نے کہا۔ ہاں ! بخدا ! اگر انصار ، مہاجرین پر خرچہ نہ کرتے تو وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گرد سے چلے جاتے۔ ہاں ! بخدا ! اگر ہم مدینہ کی طرف واپس لوٹ گئے تو البتہ ضرور بالضرور عزت والے مدینہ سے ذلت والوں کو نکال دیں گے۔ پس یہ بات نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پہنچی۔ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صحابہ کو کوچ کرنے کا حکم دیا۔ گویا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) انھیں مشغول کر رہے تھے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دوران سفر بنو عبد الاشہل میں ایک سوار جماعت کو پایا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں فرمایا : تمہیں معلوم نہیں ہے کہ منافق عبداللہ بن ابی نے کیا کہا ہے ؟ انھوں نے پوچھا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اس نے کیا کہا ہیَ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس نے کہا ہے۔ ہاں ! بخدا ! اگر تم (انصار) ان (مہاجرین) پر خرچ نہ کرو تو یہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس سے چلے جائیں گے۔ ہاں۔ بخدا ! اگر ہم مدینہ واپس گئے تو البتہ ضرور بالضرور عزت والے ، مدینہ سے ذلت والوں کو باہر نکال دیں گے۔ انھوں نے کہا : یا رسول اللہ ! سچ کہا۔ آپ اور اللہ تعالیٰ عزت والے جبکہ وہ ذلیل ہے۔