hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 38002

.

ابن أبي شيبة

38002
Ibn Abi Shaybah
(۳۸۰۰۳) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ؛ أَنَّ قُرَیْشًا صَالَحُوا النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیہِمْ سُہَیْلُ بْنُ عَمْرٍو ، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِعَلِیٍّ : اُکْتُبْ : بِسْمِ اللہِ الرَّحْمَن الرَّحِیمِ ، فَقَالَ سُہَیْلٌ : أَمَّا بِسْمِ اللہِ الرَّحْمَن الرَّحِیمِ فَمَا نَدْرِی مَا بِسْمِ اللہِ الرَّحْمَن الرَّحِیمِ ، وَلَکِنِ اُکْتُبْ بِمَا نَعْرِفُ : بِاسْمِکَ اللَّہُمَّ ، فَقَالَ : اُکْتُبْ مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللہِ ، قَالُوا : لَوْ عَلِمْنَا أَنَّکَ رَسُولُ اللہِ اتَّبَعَنَاکَ ، وَلَکِنِ اُکْتُبَ اسْمَکَ وَاسْمَ أَبِیکَ ، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : اُکْتُبْ : مِنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللہِ ، فَاشْتَرَطُوا عَلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَّ مَنْ جَائَ مِنْکُمْ لَمْ نَرُدَّہُ عَلَیْکُمْ ، وَمَنْ جَائَکُمْ مِنَّا رَدَدْتُمُوہُ عَلَیْنَا ، فَقَالُوا : یَا رَسُولَ اللہِ ، أَتَکْتُبُ ہَذَا ؟ قَالَ : نَعَمْ ، إِنَّہُ مَنْ ذَہَبَ مِنَّا إِلَیْہِمْ فَأَبْعَدَہُ اللَّہُ ، وَمَنْ جَائَنَا مِنْہُمْ سَیَجْعَلُ اللَّہُ لَہُ فَرَجًا وَمَخْرَجًا۔ (بخاری ۴۱۵۴۔ مسلم ۱۴۸۴)
(٣٨٠٠٣) حضرت انس سے روایت ہے کہ قریش نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مصالحت کی جبکہ ان (مصالحت کرنے والوں) میں سہیل بن عمرو بھی تھا۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی سے فرمایا : لکھو ! بِسْمِ اللہِ الرَّحْمَن الرَّحِیمِ سہیل نے کہا یہ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمَن الرَّحِیمِ ہم نہیں جانتے۔ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمَن الرَّحِیمِ کیا ہے۔ ہاں وہ بات لکھو جس کو ہم جانتے ہیں۔ بِاسْمِکَ اللّٰھُمَّ ۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : لکھو ! محمد رسول اللہ کی طرف سے۔ وہ کہنے لگے۔ اگر ہم آپ کو اللہ کا رسول مانتے تو ہم آپ کی اتباع ہی کرلیتے۔ ہاں اپنا اور اپنے والد کا نام لکھو۔ اس پر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ لکھو ! محمد بن عبداللہ کی طرف سے۔ پھر مشرکین قریش نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر یہ شرط لگائی کہ تم میں سے جو آدمی (ہمارے پاس) آئے گا ہم اس کو تمہیں واپس نہیں کریں گے۔ اور ہم میں سے جو آدمی تمہارے پاس آئے گا تو تم اس کو ہماری طرف واپس کرو گے۔ صحابہ نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کیا یہ بات بھی لکھی جائے گی ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہاں ! جو آدمی ہم میں سے ان ی طرف جائے گا تو اللہ اس کو دور کر دے گا۔ اور جو ہمارے پاس ان میں سے آئے گا تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے راہ اور مخرج پیدا کر دے گا۔