(۳۸۰۱۶) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنِ ابْنِ أَبِی نَجِیحٍ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ؛ أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ یَوْمَ الْحُدَیْبِیَۃِ : یَرْحَمُ اللَّہُ الْمُحَلِّقِینَ ، قَالُوا : یَا رَسُولَ اللہِ ، وَالْمُقَصِّرِینَ ؟ قَالَ : یَرْحَمُ اللَّہُ الْمُحَلِّقِینَ ثَلاَثًا ، قَالُوا : وَالْمُقَصِّرِینَ ، یَا رَسُولَ اللہِ ؟ قَالَ : وَالْمُقَصِّرِینَ ، قَالُوا : یَا رَسُولَ اللہِ ، مَا بَالُ الْمُحَلِّقِینَ ظَاہَرْتَ لَہُمُ التَّرَحُّمَ ؟ قَالَ : إِنَّہُمْ لَمْ یَشُکُّوا۔
(٣٨٠١٦) حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حدیبیہ کے دن ارشاد فرمایا : اللہ پاک سر منڈانے والوں پر رحم فرمائے۔ صحابہ نے سوال کیا : یا رسول اللہ ! بال کتروانے والوں پر ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے (دوبارہ) ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ سر منڈانے والوں پر رحم فرمائے۔۔۔ یہ بات آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی۔۔۔ صحابہ نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! قصر کروانے والوں پر ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : قصر کروانے والوں پر (بھی رحم فرما) ۔ صحابہ نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! سر منڈانے (حلق) والوں کی کیا وجہ تھی کہ آپ نے ان پر رحم کی دعا زیادہ (تین بار) فرمائی ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : انھوں نے کسی درجہ میں بھی شک نہیں کیا۔