(۳۸۰۲۶) حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : تَذَاکَرَ أَبُو سَلَمَۃَ ، وَیَحْیَی بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَعَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ الْمُغِیرَۃِ ، وَأَنَا مَعَہُمَ الأَنْفَالَ ، فَأَرْسَلُوا إلَی سَعِیدٌ بْنِ الْمُسَیَّبِ یَسْأَلُونَہُ عَنْ ذَلِکَ ، فَجَائَ الرَّسُولُ، فَقَالَ: أَبَی أَنْ یُخْبِرَنِی شَیْئًا، قَالَ: فَأَرْسَلَ سَعِیدٌ غُلاَمَہُ، فَقَالَ: إِنَّ سَعِیدًا یَقُولُ لَکُمْ: إِنَّکُمْ أَرْسَلْتُمْ تَسْأَلُونَنِی عَنِ الأَنْفَالِ ، وَإِنَّہُ لاَ نَفْلَ بَعْدَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔ (طبری ۱۷۷۔ ابن حبان ۴۸۳۵)
(٣٨٠٢٦) حضرت محمد بن عمرو بیان کرتے ہیں کہ ابو سلمہ، یحییٰ بن عبد الرحمن اور عبد الملک بن مغیرہ۔۔۔ اور میں بھی ان کے ہمراہ تھا۔۔۔ آپس میں انفال ۔۔۔ عطایا ۔۔۔ کے بارے میں مذاکرہ کر رہے تھے ۔ تو انھوں نے سعید بن مسیب کی طرف یہ بات پوچھنے کے لیے بھیجا۔ تو (ان کا) قاصد واپس آیا اور اس نے کہا کہ سعید نے مجھے کچھ بھی بتانے سے انکار کردیا ہے ۔۔۔ راوی کہتے ہیں : پھر سعید نے اپنا غلام بھیجا اور اس نے (آکر) کہا۔ سعید، تمہیں کہہ رہے ہیں۔ کہ تم نے میرے پاس انفال ۔۔۔ عطایا۔۔۔ کے بارے میں پوچھنے کے لیے قاصد بھیجا تھا۔ حالانکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد انفال ۔۔۔ عطایا۔۔۔ نہیں ہیں۔