(۳۸۰۳۲) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِیدٍ ، عَنْ أَبِی طَلْحَۃَ ، قَالَ : کُنْتُ رِدْفَ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمَ خَیْبَرَ ، فَلَمَّا انْتَہَیْنَا وَقَدْ خَرَجُوا بِالْمَسَاحِی ، فَلَمَّا رَأَوْنَا ، قَالُوا : مُحَمَّدٌ وَاللہِ ، مُحَمَّدٌ وَالْخَمِیسُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : اللَّہُ أَکْبَرُ ، إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَۃِ قَوْمٍ فَسَائَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِینَ۔ (احمد ۲۹۔ طبرانی ۴۷۰۳)
(٣٨٠٣٢) حضرت ابو طلحہ سے روایت ہے کہ خیبر کے دن میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا۔ جب ہم (خیبر) پہنچے تو وہ لوگ (اپنے کھیتوں میں) بیلچوں کے ساتھ نکل چکے تھے۔ پس جب انھوں نے ہمیں دیکھا تو کہنے لگے۔ محمد ! بخدا ! محمد اور لشکر ؟ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اللہ اکبر ! جب ہم کسی قوم کے صحن میں اترتے ہیں تو پھر ڈرائے ہوئے لوگوں کی صبح بہت بری ہوتی ہے۔