(۳۸۰۸۴) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ ، عَنْ أَبِی الْبَخْتَرِیِّ ، عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ ، عَنْ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، أَنَّہُ قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ ہَذِہِ السُّورَۃُ : {إِذَا جَائَ نَصْرُ اللہِ وَالْفَتْحُ} ، قَالَ : قَرَأَہَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَتَّی خَتَمَہَا ، وَقَالَ : النَّاسُ حَیِّزٌ ، وَأَنَا وَأَصْحَابِی حَیِّزٌ ، وَقَالَ : لاَ ہِجْرَۃَ بَعْدَ الْفَتْحِ ، وَلَکِنْ جِہَادٌ وَنِیَّۃٌ ۔ فَقَالَ لَہُ مَرْوَانُ : کَذَبْتَ ، وَعَنْدَہُ زَیْدُ بْنُ ثَابِتٍ وَرَافِعُ بْنُ خَدِیجٍ ، وَہُمَا قَاعِدَانِ مَعَہُ عَلَی السَّرِیرِ ، فَقَالَ أَبُو سَعِیدٍ : لَوْ شَائَ ہَذَانِ لَحَدَّثَاک ، وَلَکِنْ ہَذَا یَخَافُ أَنْ تَنْزِعَہُ عَنْ عِرَافَۃِ قَوْمِہِ ، وَہَذَا یَخْشَی أَنْ تَنْزِعَہُ عَنِ الصَّدَقَۃِ ، فَسَکَتَا ، فَرَفَعَ مَرْوَانُ الدِّرَّۃَ لِیَضْرِبَہُ ، فَلَمَّا رَأَیَا ذَلِکَ ، قَالاَ : صَدَقَ۔ (احمد ۲۲۔ طبرانی ۴۴۴۴)
(٣٨٠٨٤) حضرت ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جب سورة اذا جاء نصر اللّٰہ والفتح ۔ نازل ہوئی۔ مکمل تلاوت فرمائی یہاں تک کہ اس کو ختم فرمایا۔ اور پھر ارشاد فرمایا۔ ایک جہت میں (بعد والے) لوگ ہیں اور ایک جہت میں میں اور میرے صحابہ (پہلے ایمان لانے والے) ہیں۔ اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا۔ فتح مکہ کے بعد ہجرت نہیں ہے لیکن جہاد اور نبوت باقی ہے۔ مروان نے حضرت ابو سعید خدری سے کہا۔ تم جھوٹ کہہ رہے ہو۔ (اس وقت) مروان کے پاس زید بن ثابت اور رافع بن خدیج موجود تھے اور اس کے ساتھ تخت پر بیٹھے ہوئے تھے۔ ابو سعید خدری نے فرمایا : اگر یہ دونوں چاہتے تو یہ بھی تمہیں (یہ) حدیث بیان کرتے لیکن (ان میں سے) ایک اس بات سے خوف کھاتا ہے کہ تم اس کو اپنی قوم کی طرف سے نکال دو گے اور (ان میں سے) ایک اس بات سے خوف کھاتا ہے تم اس کو صدقہ سے نکال دو گے۔ لیکن یہ دونوں حضرات خاموش رہے کہ اسی دوران مروان نے درہ بلند کیا تاکہ ابو سعید کو مارے۔ پس جب ان دونوں حضرات نے یہ دیکھا تو دونوں نے فرمایا۔ ابوسعید نے سچ بات بتائی ہے۔