(۳۸۱۱۵) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ أُمَیَّۃَ بْنِ صَفْوَانَ ، عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی زُہَیْرٍ الثَّقَفِیِّ ، عَنْ أَبِیہِ ؛ أَنَّہُ سَمِعَ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ فِی خُطْبَتِہِ بِالنَّبَاۃِ ، أَوْ بِالنَّبَاوَۃِ ، وَالنَّبَاوَۃُ مِنَ الطَّائِفِ: تُوشِکُونَ أَنْ تَعْرِفُوا أَہْلَ الْجَنَّۃِ مِنْ أَہْلِ النَّارِ ، وَخِیَارَکُمْ مِنْ شِرَارِکُمْ ، قَالَوا : بِمَ ، یَا رَسُولَ اللہِ؟ قَالَ : بِالثَّنَائِ الْحَسَنِ وَالثَّنَائِ السَّیِّئِ ، أَنْتُمْ شُہَدَائُ اللہِ فِی الأَرْضِ۔ (ابن ماجہ ۴۲۲۱۔ احمد ۴۱۶)
(٣٨١١٥) حضرت ابوبکر بن ابی زہیر ثقفی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مقام نَبَاۃَ یا مقام نَبَاوَۃ میں ۔۔۔ نباوہ طائف کا حصہ ہے۔ خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے خطبہ میں فرما رہے تھے۔ ” قریب ہے کہ تم اہل جنت کو اہل جہنم سے (جدا) پہچان لو ۔ اور اپنے بہتر لوگوں کو بدتر لوگوں سے (جدا) پہچان لو۔ “ لوگوں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کس ذریعہ سے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ ” اچھی تعریف کے ذریعہ سے اور بُری تعریف کے ذریعہ سے، تم لوگ زمین میں خدا کے گواہ ہو۔ “