(۳۸۱۲۶) حَدَّثَنَا عِیسَی بْنُ یُونُسَ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَمْرٍو السَّکْسَکِیِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَیْرِ بْنِ نَفِیرٍ ، قَالَ : لَمَّا اشْتَدَّ حُزْنُ أَصْحَابِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلَی مَنْ أُصِیبَ مِنْہُمْ مَعَ زَیْدٍ یَوْمَ مُؤْتَۃَ ، قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لَیُدْرِکَنَّ الْمَسِیحَ مِنْ ہَذِہِ الأُمَّۃِ أَقْوَامٌ ، إِنَّہُمْ لَمِثْلُکُمْ ، أَوْ خَیْرٌ ، ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ، وَلَنْ یُخْزِیَ اللَّہُ أُمَّۃً ، أَنَا أَوَّلُہَا وَالْمَسِیحُ آخِرُہَا۔
(٣٨١٢٦) حضرت عبد الرحمن بن جبیر بن نفیر کہتے ہیں، جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ کرام کو غزوہ مؤتہ میں حضرت زید کے ساتھ شہید ہونے والے حضرات پر شدید غم ہوا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ” ضرور بالضرور اسی امت میں سے کچھ قومیں حضرت مسیح کو پالیں گی۔ اور وہ لوگ تم سے بہتر یا تم جیسے ہوں گے۔ “ یہ بات آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تین مرتبہ کہی۔ ” اور اللہ تعالیٰ ایسی امت کو ہلاک نہیں کرے گا جس کے اول میں میں اور آخر میں مسیح ہوں گے۔