hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 38128

.

ابن أبي شيبة

38128
Ibn Abi Shaybah
(۳۸۱۲۹) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ مَہْدِیِّ بْنِ مَیْمُونٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ أَبِی یَعْقُوبَ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : لَمَّا جَائَ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ خَبَرُ قَتْلِ زَیْدٍ ، وَجَعْفَرٍ ، وَعَبْدِ اللہِ بْنِ رَوَاحَۃَ نَعَاہُمْ إِلَی النَّاسِ ، وَتَرَکَ أَسْمَائَ حَتَّی أَفَاضَتْ مِنْ عَبْرَتِہَا : ثُمَّ أَتَاہَا فَعَزَّاہَا ، وَقَالَ : ادْعِی لِی بَنِی أَخِی ، قَالَ : فَجَائَتْ بِثَلاَثَۃِ بَنِینَ ، کَأَنَّہُمْ أَفْرُخٌ ، قَالَتْ : فَدَعَا الْحَلاَّقَ فَحَلَقَ رُؤُوسَہُمْ ، فَقَالَ : أَمَّا مُحَمَّدٌ فَشَبِیہُ عَمِّنَا أَبِی طَالِبٍ ، وَأَمَّا عَوْنُ اللہِ فَشَبِیہُ خَلْقِی وَخُلُقِی ، وَأَمَّا عَبْدُ اللہِ فَأَخَذَ بِیَدِہِ فَشَالَہَا ، ثُمَّ قَالَ : اللَّہُمَّ بَارِکْ لِعَبْدِ اللہِ فِی صَفْقَۃِ یَمِینِہِ ، قَالَ : فَجَعَلَتْ أُمُّہُمْ تُفْرِحُ لَہُ ، فَقَالَ لَہَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : أَتَخْشَیْنَ عَلَیْہِمُ الضَّیْعَۃَ وَأَنَا وَلِیُّہُمْ فِی الدُّنْیَا وَالآخِرَۃِ ؟۔ (ابن سعد ۳۶۔ احمد ۲۰۴)
(٣٨١٢٩) حضرت حسن بن سعد روایت کرتے ہیں کہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حضرت زید، جعفر اور عبداللہ بن رواحہ کے قتل کی خبر ملی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کو یہ وفات کی خبر سُنائی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت اسماء کو اس حالت میں چھوڑا تھا کہ وہ آنسو بہا رہی تھی پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (دوبارہ) حضرت اسمائ کے پاس تشریف لائے اور ان سے تعزیت کی اور فرمایا : میرے پاس میرے بھتیجوں کو بلا کر لاؤ۔ راوی کہتے ہیں : پھر حضرت اسمائ ۔۔۔ پرندوں کے بچوں کی طرح کے ۔۔۔ تین بچے لے کر حاضر ہوئیں۔ اسماء کہتی ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نائی کو بلایا اور ان کے سرمنڈوائے اور فرمایا : ” محمد تو ہمارے چچا ابو طالب کے مشابہ ہے اور عون اللہ تو صورت و سیرت میں میرے مشابہ ہے۔ اور عبداللہ تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اس کو اوپر اٹھایا اور دعا فرمائی۔ اے اللہ ! عبداللہ کے دائیں ہاتھ کے سودے میں برکت دے۔ راوی کہتے ہیں : ان کی ماں حضرت اسمائ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ان کی (لاوارثی) کی شکایت کی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں جواب دیا ۔ کیا تم ان کے ضائع ہونے کا خوف کھاتی ہو ؟ حالانکہ میں دنیا و آخرت میں ان کا ولی ہوں۔