(۳۸۱۳۲) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ أَبِی خَالِدٍ ، عَنْ قَیْسِ بْنِ أَبِی حَازِمٍ ، قَالَ : جَائَ أُسَامَۃُ بْنُ زَیْدٍ بَعْدَ قَتْلِ أَبِیہِ ، فَقَامَ بَیْنَ یَدَیِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَدَمَعَتْ عَیْنَاہُ ، فَلَمَّا کَانَ مِنَ الْغَدِ جَائَ فَقَامَ مَقَامَہُ ذَلِکَ ، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : أُلاَقِی مِنْک الْیَوْمَ مَا لَقِیتُ مِنْک أَمْسِ ؟۔
(٣٨١٣٢) حضرت قیس بن ابی حازم سے روایت ہے کہ حضرت اسامہ ، اپنے والد کے قتل کے بعد حاضر ہوئے تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے سامنے (استقبال کے لئے) کھڑے ہوگئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آنکھیں بھر آئیں۔ پھر جب اگلادن آیا اور حضرت اسامہ حاضر ہوئے اور پھر اپیپ اسی جگہ پر کھڑے ہوگئے تو اس پر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” کیا میں آج بھی تمہارا استقبال اس طرح کروں جس طرح میں نے کل تمہارا استقبال کیا تھا “ ؟