(۳۸۱۳۶) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ ، عَنِ الأَجْلَحِ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، قَالَ : لَمَّا أَتَی رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَتْلُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِی طَالِبٍ ، تَرَکَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ امْرَأَتَہُ أَسْمَائَ بِنْتَ عُمَیْسٍ حَتَّی أَفَاضَتْ عَبْرَتَہَا ، وَذَہَبَ بَعْضُ حُزْنِہَا ، ثُمَّ أَتَاہَا فَعَزَّاہَا ، وَدَعَا بَنِی جَعْفَرٍ فَدَعَا لَہُمْ ، وَدَعَا لِعَبْدِ اللہِ بْنِ جَعْفَرٍ أَنْ یُبَارَکَ لَہُ فِی صَفْقَۃِ یَدِہِ ، فَکَانَ لاَ یَشْتَرِی شَیْئًا إِلاَّ رَبِحَ فِیہِ۔
فَقَالَتْ لَہُ أَسْمَائُ : یَا رَسُولَ اللہِ ، إِنَّ ہَؤُلاَئِ یَزْعُمُونَ أَنَّا لَسْنَا مِنَ الْمُہَاجِرِینَ ، فَقَالَ : کَذَبُوا ، لَکُمُ الْہِجْرَۃُ مَرَّتَیْنِ ، ہَاجَرْتُمْ إِلَی النَّجَاشِیِّ ، وَہَاجَرْتُمْ إِلَیَّ۔
(٣٨١٣٦) حضرت شعبی سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حضرت جعفر بن ابی طالب کے قتل کی خبر پہنچی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت جعفر کی بیوی اسماء بنت عمیس کو چھوڑ دیا یہاں تک کہ انھوں نے آنسو بہا لیے اور غم ہلکا ہوگیا ۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت اسمائ کے پاس گئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے تعزیت کی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت جعفر کے بیٹوں کو بلایا اور ان کے لیے دُعا فرمائی۔ چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عبداللہ بن جعفر کے لیے یہ دعا کی کہ ان کے سودے میں برکت دی جائے۔ پس عبداللہ جب بھی کوئی چیز خریدتے تو انھیں اس میں نفع ہوتا۔ پھر حضرت اسمائ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عر ض کیا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! یہ لوگ خیال کرتے ہیں کہ ہم مہاجرین میں سے نہیں ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا۔ ” لوگ جھوٹ کہتے ہیں۔ تم نے دو مرتبہ ہجرت کی ہے۔ (ایک مرتبہ) تم نے نجاشی کی طرف ہجرت کی اور (ایک مرتبہ) تم نے میری طرف ہجرت کی۔