(۳۸۱۳۸) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ زَکَرِیَّا ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، قَالَ : قَالَ رَجُلٌ لِلْبَرَائِ : ہَلْ کُنْتُمْ وَلَّیْتُمْ یَوْمَ حُنَیْنٍ ، یَا أَبَا عُمَارَۃَ ؟ فَقَالَ : أَشْہَدُ عَلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَا وَلَّی ، وَلَکِنِ انْطَلَقَ جُفَائٌ مِنَ النَّاسِ وَحُسَّرٌ إلَی ہَذَا الْحَیِّ مِنْ ہَوَازِنَ ، وَہُمْ قَوْمٌ رُمَاۃٌ ، فَرَمَوْہُمْ بِرِشْقٍ مِنْ نَبْلٍ کَأَنَّہَا رِجْلٌ مِنْ جَرَادٍ ، قَالَ: فَانْکَشَفُوا، فَأَقْبَلَ الْقَوْمُ ہُنَالِکَ إِلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَأَبُو سُفْیَانَ بْنُ الْحَارِثِ یَقُودُ بَغْلَتَہُ، فَنَزَلَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَاسْتَنْصَرَ ، وَہُوَ یَقُولُ :
أَنَا النَّبِیُّ لاَ کَذِب أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِب
اللَّہُمَّ نَزِّل نَصْرَک ، قَالَ : وَکُنَّا وَاللہِ إِذَا احْمَرَّ الْبَأْسُ نَتَّقِی بِہِ ، وَإِنَّ الشُّجَاعَ لِلَّذِی یُحَاذِی بِہِ۔ (مسلم ۱۴۰۱۔ بیہقی ۱۳۴)
(٣٨١٣٨) حضرت ابو اسحاق روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت برائ سے کہا۔ اے ابو عمارہ ! کیا تم لوگ حنین کے دن پیٹھ پھیر گئے تھے ؟ حضرت برائ نے کہا۔ میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پیٹھ نہیں پھیری تھی۔ لیکن کچھ لوگ جلد بازی میں خالی ہاتھ قبیلہ ہوازن کی طرف چل پڑے تھے حالانکہ ہوازن والے تو ایک تیر انداز قوم تھے۔ چنانچہ انھوں نے اس (خالی ہاتھ) جماعت کو تیز تیر پھینکنے والی کمان کے ذریعہ سے خوب تیر برسائے یوں لگتا تھا کہ گویا تیروں کا مجموعہ آ رہا ہے۔ راوی کہتے ہیں : پس لوگ چھٹ گئے اور اس وقت ہوازن کے لوگ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف بڑھے جبکہ ابو سفیان آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خچر کو ہانک رہے تھے ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (خچر سے) نیچے تشریف لائے اور مدد کے لیے پکارا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کہہ رہے تھے۔
” میں جھوٹا نبی نہیں ہوں۔ میں تو عبد المطلب کا بیٹا ہوں۔ “
اے اللہ ! اپنی مدد نازل فرما “ راوی کہتے ہیں : خدا کی قسم ! جب جنگ خوب شعلہ زن ہوتی تھی تو ہم آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آڑ میں (اپنا) بچاؤ کرتے تھے۔ اور یقیناً (اس وقت) بہادر وہی شخص ہوتا تھا جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ کھڑا ہوتا تھا۔