(۳۸۱۴۲) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ، عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ الْمُغِیرَۃِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: جَائَ أَبُو طَلْحَۃَ یَوْمَ حُنَیْنٍ یُضْحِکُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللہِ، أَلَمْ تَرَ إِلَی أُمِّ سُلَیْمٍ مَعَہَا خِنْجَرٌ، فَقَالَ لَہَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: یَا أُمَّ سُلَیْمٍ، مَا أَرَدْتِ إِلَیْہِ؟ قَالَتْ: أَرَدْتُ إِنْ دَنَا إِلَیَّ أَحَدٌ مِنْہُمْ طَعَنْتُہُ بِہِ۔ (مسلم ۱۴۴۳۔ ابن حبان ۷۱۸۵)
(٣٨١٤٢) حضرت انس سے روایت ہے کہ حضرت طلحہ حنین کے دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہنسانے لگے اور فرمایا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ نے ام سلیم کو نہیں دیکھا ان کے ہاتھ میں چھرا ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ام سلیم سے پوچھا۔ ” اے ام سلیم ! اس چھرے سے تمہارا کیا ارادہ ہے ؟ “ حضرت ام سلیم نے جواب دیا۔ میرا ارادہ یہ ہے کہ اگر کوئی دشمن میرے قریب آیا تو میں یہ چھرا اسے گھونپ دوں گی۔