hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 38144

.

ابن أبي شيبة

38144
Ibn Abi Shaybah
(۳۸۱۴۵) حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُکَیْنٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ صُہَیْبٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ بُرَیْدَۃَ ؛ أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمَ حُنَیْنٍ انْکَشَفَ النَّاسُ عَنْہُ ، فَلَمْ یَبْقَ مَعَہُ إِلاَّ رَجُلٌ یُقَالُ لَہُ : زَیْدٌ ، آخِذٌ بِعَنَانِ بَغْلَتِہِ الشَّہْبَائِ، وَہِیَ الَّتِی أَہْدَاہَا لَہُ النَّجَاشِیُّ ، فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : وَیْحَک یَا زَیْدُ ، اُدْعُ النَّاسَ ، فَنَادَی : أَیُّہَا النَّاسُ ، ہَذَا رَسُولُ اللہِ یَدْعُوکُمْ ، فَلَمْ یُجِبْہُ أَحَدٌ عِنْدَ ذَلِکَ ، فَقَالَ : وَیْحَک ، حُضَّ الأَوْسَ وَالْخَزْرَجَ ، فَقَالَ : یَا مَعْشَرَ الأَوْسِ وَالْخَزْرَجِ ، ہَذَا رَسُولُ اللہِ یَدْعُوکُمْ ، فَلَمْ یُجِبْہُ أَحَدٌ عِنْدَ ذَلِکَ ، فَقَالَ : وَیْحَک ، اُدْعُ الْمُہَاجِرِینَ ، فَإِنَّ لِلَّہِ فِی أَعَنْاقِہِمْ بَیْعَۃً ، قَالَ : فَحَدَّثَنِی بُرَیْدَۃُ ، أَنَّہُ أَقْبَلَ مِنْہُمْ أَلْفٌ ، قَدْ طَرَحُوا الْجُفُونَ وَکَسَرُوہَا ، ثُمَّ أَتَوْا رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَتَّی فُتِحَ عَلَیْہِمْ۔ (بزار ۱۸۲۸)
(٣٨١٤٥) حضرت عبداللہ بن بریدہ سے روایت ہے کہ غزوہ حنین کے دن لوگ جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے چھٹ گئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس صرف ایک آدمی رہ گیا جس کا نام زید تھا۔ اور وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بھورے رنگ کے خچر کی لگام پکڑے ہوئے تھا ۔۔۔ یہ وہی خچر تھا جو نجاشی نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہدیہ کیا تھا ۔۔۔ جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے زید سے کہا ۔ ” تو ہلاک ہوجائے اے زید ! لوگوں کو بلاؤ۔ “ چنانچہ زید نے آواز دی۔ اے لوگو ! یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمہیں بلا رہے ہیں۔ لیکن کسی نے زید کو اس وقت جواب نہیں دیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ ” تو ہلاک ہوجائے ! اوس اور خزرج کو خاص کر کے بلاؤ۔ “ چنانچہ حضرت زید نے آواز دی۔ اے اوس و خزرج کے لوگو ! یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمہیں بلا رہے ہیں۔ لیکن اس وقت بھی زید کو کسی نے جواب نہ دیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے (پھر) فرمایا۔ ” تو ہلاک ہوجائے۔ مہاجرین کو بلا لو کیونکہ ان کی گردنوں میں تو اللہ کے لیے بیعت ہے۔ “ راوی کہتے ہیں : مجھے حضرت بریدہ نے بیان کیا کہ لوگوں میں سے ایک ہزار ایسے لوگ (واپس) متوجہ ہوئے جنہوں نے نیاموں کو توڑا اور پھینک دیا تھا۔ پھر یہ لوگ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے (اور لڑے) یہاں تک کہ کفار پر ان کو فتح ہوئی۔