hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 38155

.

ابن أبي شيبة

38155
Ibn Abi Shaybah
(۳۸۱۵۶) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُہَیْبٌ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ یَحْیَی ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِیمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ زَیْدٍ ، قَالَ : لَمَّا أَفَائَ اللَّہُ عَلَی رَسُولِہِ یَوْمَ حُنَیْنٍ مَا أَفَائَ ، قَسَمَ فِی النَّاسِ فِی الْمُؤَلَّفَۃِ قُلُوبُہُمْ ، وَلَمْ یَقْسِمْ وَلَمْ یُعْطِ الأَنْصَارَ شَیْئًا ، فَکَأَنَّہُمْ وَجَدُوا إِذْ لَمْ یُصِبْہُمْ مَا أَصَابَ النَّاسَ ، فَخَطَبَہُمْ ، فَقَالَ : یَا مَعْشَرَ الأَنْصَارِ ، أَلَمْ أَجِدْکُمْ ضُلاَّلاً فَہَدَاکُمَ اللَّہُ بِی ؟ وَکُنْتُمْ مُتَفَرِّقِینَ فَجَمَعَکُمُ اللَّہُ بِی ؟ وَعَالَۃً فَأَغْنَاکُمَ اللَّہُ بِی ، قَالَ : کُلَّمَا قَالَ شَیْئًا ، قَالُوا : اللَّہُ وَرَسُولُہُ أَمَنُّ ، قَالَ : فَمَا یَمْنَعُکُمْ أَنْ تُجِیبُوا؟ قَالُوا : اللَّہُ وَرَسُولُہُ أَمَنُّ : قَالَ : لَوْ شِئْتُمْ قُلْتُمْ : جِئْتَنَا کَذَا وَکَذَا ، أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ یَذْہَبَ النَّاسُ بِالشَّائِ وَالْبَعِیرِ ، وَتَذْہَبُونَ بِرَسُولِ اللہِ إِلَی رِحَالِکُمْ؟ لَوْلاَ الْہِجْرَۃُ لَکُنْتُ امْرَئًا مِنَ الأَنْصَارِ ، لَوْ سَلَکَ النَّاسُ وَادِیًا ، أَوْ شِعْبًا لَسَلَکْت وَادِیَ الأَنْصَارِ وَشِعْبَہُمْ، الأَنْصَارُ شِعَارٌ، وَالنَّاسُ دِثَارٌ، وَإِنَّکُمْ سَتَلْقَوْنَ بَعْدِی أَثَرَۃً، فَاصْبِرُوا حَتَّی تَلْقَوْنِی عَلَی الْحَوْضِ۔
(٣٨١٥٦) حضرت عبداللہ بن زید سے روایت ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو غزوہ حنین میں جو مال غنیمت میں دینا مقصود تھا وہ عطا فرمایا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وہ مال لوگوں میں اور مؤلفۃ القلوب میں تقسیم فرمایا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انصار میں کوئی مال بھی تقسیم نہیں فرمایا اور ان کو نہیں دیا۔ اس پر گویا جب انھیں حصہ نہیں ملا تو انھوں نے محسوس کیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو خطبہ ارشاد فرمایا اور کہا۔ ” اے گروہ انصار ! کیا میں نے تمہیں گمراہ نہیں پایا تھا پھر اللہ تعالیٰ نے تمہیں میرے ذریعہ سے ہدایت بخشی اور تم لوگ پراگندہ و منتشر تھے پھر اللہ تعالیٰ نے تمہیں میرے ذریعہ سے اکٹھا فرمایا۔ اور کیا میں نے تمہیں تنگدست نہیں پایا تھا کہ پھر اللہ تعالیٰ نے تمہیں میرے ذریعہ سے غنی کردیا۔ “ راوی کہتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب بھی کوئی بات پوچھتے تو صحابہ جواب میں کہتے : اللہ اور اس کے رسول زیادہ بڑے محسن ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” تمہیں جواب دینے سے کیا چیز مانع ہے ؟ صحابہ نے عرض کیا۔ اللہ اور اس کے رسول زیادہ بڑے محسن ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اگر تم چاہو تو یوں کہو۔ آپ ایسی ایسی حالت میں ہمارے پاس آئے تھے۔ کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ لوگ تو بکریاں اور اونٹ لے جائیں اور تم اپنے کجاو وں کی طرف اللہ کے رسول کو لے جاؤ ؟ اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں بھی انصار میں سے ایک آدمی ہوتا ۔ اگر سب لوگ ایک وادی یا گھاٹی میں چلیں تو میں انصار کی وادی یا گھاٹی میں چلوں گا۔ انصار لوگ جسم سے متصل کپڑے (کی مانند) ہیں اور بقیہ لوگ جسم سے اوپر کے کپڑے (کی مانند) ہیں۔ تم لوگ میرے بعد ترجیح نفس کا مشاہدہ کرو گے لیکن تم صبر کرنا، یہاں تک کہ تم میرے ساتھ حوض پر آ ملو۔