hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 38166

.

ابن أبي شيبة

38166
Ibn Abi Shaybah
(۳۸۱۶۷) حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، أَخْبَرَنَا الْمَسْعُودِیُّ ، عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أَوْسَطَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی کَبْشَۃَ الأَنْمَارِیِّ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : لَمَّا کَانَ فِی غَزْوَۃِ تَبُوکَ ، سَارَعَ نَاسٌ إِلَی أَصْحَابِ الْحِجْرِ ، فَدَخَلُوا عَلَیْہِمْ ، فَبَلَغَ ذَلِکَ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَأَمَرَ فَنُودِی : إِنَّ الصَّلاَۃَ جَامِعَۃٌ ، قَالَ : فَأَتَیْتُہُ وَہُوَ مُمْسِکٌ بِبَعِیرِہِ ، وَہُوَ یَقُولُ : عَلاَمَ تَدْخُلُونَ عَلَی قَوْمٍ غَضِبَ اللَّہُ عَلَیْہِمْ ؟ قَالَ : فَنَادَاہُ رَجُلٌ تَعَجُّبًا مِنْہُمْ : یَا رَسُولَ اللہِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : أَفَلاَ أُنَبِّئُکُمْ بِمَا ہُوَ أَعْجَبُ مِنْ ذَلِکَ ؟ رَجُلٌ مِنْ أَنْفُسِکُمْ ، یُحَدِّثُکُمْ بِمَا کَانَ قَبْلَکُمْ ، وَبِمَا یَکُونُ بَعْدَکُمْ ، اسْتَقِیمُوا وَسَدِّدُوا ، فَإِنَّ اللَّہَ لاَ یَعْبَأُ بِعَذَابِکُمْ شَیْئًا ، وَسَیَأْتِی اللَّہُ بِقَوْمٍ لاَ یَدْفَعُونَ عَنْ أَنْفُسِہِمْ بِشَیْئٍ۔ (احمد ۲۳۱۔ طبرانی ۸۵۱)
(٣٨١٦٧) حضرت محمد بن کبشہ انماری، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ (ہم لوگ) جب غزوہ تبوک (میں) تھے تو کچھ لوگ جلدی جلدی اصحاب الحجر (کے کھنڈرات) میں داخل ہونے لگے تو یہ بات جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پہنچی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا تو آواز لگائی گئی۔ ان الصلاۃ جامعۃ ۔۔۔ راوی کہتے ہیں : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی اونٹنی پر بیٹھے ہوئے تشریف لائے اور ارشاد فرمایا : ” خدا کی غضب شدہ قوم پر تم کیوں داخل ہوئے ؟ “ راوی کہتے ہیں : ایک آدمی نے عرض کیا ۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ن سے تعجب میں پڑ کر۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ” کیا میں تمہیں اس سے بھی عجیب بات نہ بتاؤں ؟ ایک آدمی تمہیں میں سے ہے اور وہ تم کو پہلوں کی باتیں بیان کرتا ہے اور آنے والی بھی بیان کرتا ہے۔ استقامت کا مظاہرہ کرو اور سیدھے ہو جاؤ کیونکہ اللہ تعالیٰ کو تمہیں عذاب دینے میں کسی شئی کی پروا نہیں ہے۔ اور عنقریب اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو لائیں گے جو خود سے کسی شئی کو دور نہیں کریں گے۔