hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 38168

.

ابن أبي شيبة

38168
Ibn Abi Shaybah
(۳۸۱۶۹) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، قَالَ : لَمَّا أَرَادَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ یُلاَعِنَ أَہْلَ نَجْرَانَ قَبِلُوا الْجِزْیَۃَ أَنْ یُعْطُوہَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لَقَدْ أَتَانِی الْبَشِیرُ بِہَلَکَۃِ أَہْلِ نَجْرَانَ ، لَوْ تَمُّوا عَلَی الْمُلاَعَنَۃ ، حَتَّی الطَّیْرِ عَلَی الشَّجَرِ ، أَوِ الْعُصْفُورِ عَلَی الشَّجَرِ ، وَلَمَّا غَدَا إِلَیْہِمْ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَخَذَ بِیَدِ حَسَنٍ وَحُسَیْنٍ ، وَکَانَتْ فَاطِمَۃُ تَمْشِی خَلْفَہُ۔
(٣٨١٦٩) حضرت شعبی سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اہل نجران کے ساتھ مباہلہ کرنے کا ارادہ کیا تو انھوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جزیہ ادا کرنا قبول کرلیا۔ اس پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ” تحقیق مجھے ایک بشارت دینے والے نے اہل نجران کی ہلاکت کی اطلاع دی تھی اگر یہ لوگ مباہلہ میں مکمل شریک ہوجاتے حتیٰ کہ درختوں پر پرندے بھی ۔۔۔ یا ۔۔۔ فرمایا۔۔۔ درختوں پر چڑیا بھی۔ “ اور جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان اہل نجران کی طرف جا رہے تھے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت حسن اور حسین کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا اور حضرت فاطمہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے چل رہی تھیں۔