(۳۸۱۷۱) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ ؛ أَنَّ عُمَرَ أَجْلَی أَہْلَ نَجْرَانَ الْیَہُودَ وَالنَّصَارَی ، وَاشْتَرَی بَیَاضَ أَرْضِہِمْ وَکُرُومِہِمْ ، فَعَامَلَ عُمَرُ النَّاسَ ؛ إِنْ ہُمْ جَاؤُوا بِالْبَقَرِ وَالْحَدِیدِ مِنْ عَنْدِہِمْ ، فَلَہُمَ الثُّلُثَانِ وَلِعُمَرَ الثُّلُثُ ، وَإِنْ جَائَ عُمَرُ بِالْبَذْرِ مِنْ عَنْدِہِ ، فَلَہُ الشَّطْرُ ، وَعَامَلَہُمُ النَّخْلَ عَلَی أَنَّ لَہُمُ الْخُمْسَ وَلِعُمَرَ أَرْبَعَۃُ أَخْمَاسٍ ، وَعَامَلَہُمُ الْکَرْمَ عَلَی أَنَّ لَہُمُ الثُّلُثَ ، وَلِعُمَرَ الثُّلُثَانِ۔
(٣٨١٧١) حضرت یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ حضرت عمر نے اہل نجران ۔۔۔ یہودو نصاریٰ ۔۔۔ کو جلا وطن کیا اور ان کی زمینوں اور انگوروں کی بیلوں کو خرید لیا اور حضرت عمر نے (ان سے یہ) معاملہ کیا کہ اگر وہ بیل اور ہل کا سامان خود مہیا کریں تو ان کو (پیداوار کا) دو ثلث اور حضرت عمر کو ایک ثلث ملے گا اور اگر حضرت عمر بیج مہیا کریں تو ان کو نصف حصہ ملے گا۔ اور حضرت عمر نے ان کے ساتھ کھجوروں کا اس شرط پر معاملہ کیا کہ (پیداوار کا) ایک خمس ان کا ہوگا اور چار خمس حضرت عمر کے ہوں گے ۔۔۔ اور انگوروں میں ان کے ساتھ اس شرط پر معاملہ کیا کہ ان کا حصہ ایک ثلث ہوگا اور حضرت عمر کا حصہ دو ثلث ہوں گے۔