(۳۸۱۸۲) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ الْمُغِیرَۃِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : لَمَّا قُبِضَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ أَبُو بَکْرٍ لِعُمَرَ ، أَوْ عُمَرُ لأَبِی بَکْرٍ : انْطَلِقْ بِنَا إِلَی أُمِّ أَیْمَنَ نَزُورُہَا ، فَانْطَلَقَا إِلَیْہَا ، فَجَعَلَتْ تَبْکِی ، فَقَالاَ لَہَا : یَا أُمَّ أَیْمَنَ ، إِنَّ مَا عِنْدَ اللہِ خَیْرٌ لِرَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ مَا عِنْدَ اللہِ خَیْرٌ لِرَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَلَکِنِّی أَبْکِی عَلَی خَبَرِ السَّمَائِ ، انْقَطَعَ عَنَّا ، فَہَیَّجَتْہُمَا عَلَی الْبُکَائِ ، فَجَعَلاَ یَبْکِیَانِ مَعَہَا۔ (مسلم ۱۹۰۷۔ ابن ماجہ ۱۶۳۵)
(٣٨١٨٢) حضرت انس سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وفات پا گئے تو حضرت ابوبکر نے حضرت عمر سے کہا یا حضرت عمر نے حضرت ابوبکر سے کہا۔ ہمارے ساتھ ام ایمن کے پاس چلو تاکہ ہم ان کو دیکھیں۔ پس ہم ان کے پاس گئے تو وہ رونے لگیں۔ شیخین نے ام ایمن سے کہا۔ اے ام ایمن ! جو کچھ اللہ تعالیٰ کے پاس اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے ہے وہ بہتر ہے۔ اس پر ام ایمن نے کہا۔ یقیناً مجھے بھی اس بات کا علم ہے کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ کے پاس ہے وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے زیادہ بہتر ہے لیکن میں تو اس بات پر رو رہی ہوں کہ ہم سے آسمان کی خبریں منقطع ہوگئیں۔ پس ام ایمن نے حضرت ابوبکر و عمر کو بھی رونے پر ابھار دیا چنانچہ وہ دونوں حضرات بھی ان کے ساتھ رونے لگے۔